اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تعین کرنا عدالت کا کام نہیں، سندھ ہائیکورٹ 83

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تعین کرنا عدالت کا کام نہیں، سندھ ہائیکورٹ

دودھ 120 روپے کے بجائے 150 میں بیچا جا رہا ہے، کمشنرکو مقررہ قیمت پر فروخت کرنے کا پابند کیا جائے، وکیل درخواست گزار
۔(فوٹو: فائل)

 کراچی:  سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں من مانے اضافے کیخلاف درخواست کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی چیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ روبرو کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، کمشنر کراچی کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ کمشنر کی جانب سے دودھ کی قیمت 94 روپے مقرر کی گئی تھی تو 120 روپے فروخت ہوتا رہا، اب دودھ کی قیمت 120 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن شہر میں دودھ 150 روپے فروخت ہورہا ہے، کمشنر کراچی کو مقررہ قیمت پر فروخت کرنے کا پابند کیا جائے۔

چیف جسٹس احمد علی شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہر چیز کے نرخوں میں اضافہ ہو گیا ہے، عدالت کس کس چیز کی قیمتوں کے تعین کا حکم دے؟ کل کو کہیں گے، چینی اور آٹے کی قیمت کا تعین بھی عدالت کرے، اشیائے  خوردونوش کی چیزوں کی قیمتوں کا تعین کرنا عدالت کا کام نہیں۔

چیف جسٹس احمد علی شیخ نے عرفان عزیز ایڈووکیٹ سے مکالمے میں کہا کہ جانوروں کا چارہ بھی مہنگا ہوگیا ہے، آپ کو معلوم ہے بھینس کونسا چارہ کھاتی ہے اور وہ کتنا مہنگا ہے؟، عدالت نے ریمارکس دیے جو کام عدالت کا نہیں ہے وہ ہم کیسے کرسکتے ہیں؟، چیف جسٹس احمد علی شیخ نے درخواست کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کر دی۔





Source link

sobaan saeed
Author: sobaan saeed

Sobaan saeed is writer||Blogger||works at khabraindaily

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں