آلو ٹماٹر کی قیمت جاننے کے لیے سیاست میں نہیں آیا، عمران خان 131

آلو ٹماٹر کی قیمت جاننے کے لیے سیاست میں نہیں آیا، عمران خان

حافظ آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی کہ جو کچھ میں چاہتا تھا وہ مجھے مل چکا تھا لیکن میں صرف نوجوانوں کے مستقبل کی خاطر سیاست میں آیا۔

پنجاب کے شہر حافظ آباد میں عمران خان کا خطاب جاری ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ جب میرے پانچ سال پورے ہوجائیں گے تو وعدہ ہے کہ جتنا کام ہم نے کیا ہوگا پانچ سال میں اتنا کام کسی حکومت نے نہیں کیا ہوگا، مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی کہ جو کچھ میں چاہتا تھا وہ مجھے مل چکا تھا لیکن میں صرف نوجوانوں کے مستقبل کی خاطر سیاست میں آیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم جب بنتی ہے جب اس کا نظریہ ایک ہو، جاگ پنجابی جاگ، سندھو دیش، بلوچستان کی آزادی کی تحریک یا پختونستان، جب تک ہم یہ نعرے نہیں چھوڑیں گے ہم ایک قوم نہیں بن سکتے، میں نے فیصلہ کیا کہ قوم کی تربیت کے لیے رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی بناؤں اور قوم کو بتاؤں کہ نبی کریمؐ کی زندگی کیا تھی، انہوں ںے مدینے کی ریاست میں تمام مذاہب کو جمع کیا جس میں مسلم بھی تھے اور غیر مسلم بھی جو کہ ایک نظریے پر جمع ہوئے۔

اس لیے سیاست میں نہیں آیا کہ آلو اور ٹماٹر کی قیمت کیا ہے

عمران خان نے کہا کہ 25 سال سے اپنی قوم کو تبلیغ کررہا ہوں کہ اگر عظیم قوم بننا ہے تو اچھائی کا ساتھ دیں، میں اس لیے سیاست میں نہیں آیا کہ آلو کی قیمت کیا ہے اور ٹماٹر کی قیمت کیا ہے، میں نوجوانوں کو ایک قوم بنانے کے لیے سیاست میں آیا، پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک تعلیمی نصاب کے لیے آئے ہیں۔

ریاست گرانے کے لیے لوگوں کا ضمیر خریدنے کی کوشش ہورہی ہے

عمران خان نے کہا کہ ریاست کو گرانے کے لیے لوگوں کا ضمیر خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، کوئی پیسے کے زور پر حکومت گرانے کی کوشش کرے تو قوم مقابلہ کرتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کی امریکی صدر کے سامنے کانپیں ٹانگ رہی ہوتی تھیں اور پرچی ہاتھ میں ہوتی ہے کہ کوئی غلط بات منہ سے نہ نکل جائے، میری زندگی مغرب میں گزری، جو ان کے جوتے پالش کرے وہ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو ملک اپنی عزت نہیں کرتا دنیا اس کی عزت نہیں کرتی، دس سال 2008ء تا 2018ء ملک میں 400 ڈرون حملے ہوئے لیکن آصف زرداری اور نواز شریف جو حکمران تھے انہوں نے کبھی اس کی مذمت نہیں کی۔





Source link

sobaan saeed
Author: sobaan saeed

Sobaan saeed is writer||Blogger||works at khabraindaily

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں