فضل الرحمان نے 23 مارچ کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کردیا 113

فضل الرحمان نے 23 مارچ کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کردیا

حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موؤمنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ فضل الرحمان نے 23 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دے دی ہے۔

فضل الرحمان نے حکومت کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انہیں چھٹی کا دودھ یاد دلادیں گے، ڈنڈے کا جواب ڈنڈے اور پتھر کا جواب پتھر سے دیں گے۔

پیر کو رات گئے مشترکا میڈیا ٹاک میں فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں کب تک بیٹھیں گے یہ فیصلہ ہم کریں گے، لوگ تیار رہیں تحریک عدم اعتماد کی تاریخ تک اسلام آباد میں رہیں گے۔ شاہراہ دستور پر ملکی تاریخ کا عظیم الشان جلسہ ہوگا۔ ارکان پارلیمنٹ کو بحفاظت ايوان پہنچايا جائے گا۔ ان کو بتانا ہے کہ پاکستان تمھارا نہیں ہمارا ہے پوری قوم کا ہے، آپ ہوتے کون ہیں جو پارلیمنٹ کے آئینی اقدام کو اپنے کارکنوں اور چند گوریلوں کے ذریعے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دھمکیاں دے رہی ہے، ہم انہیں چھٹی کا دودھ یاد دلادیں گے۔ اس موقع پر کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ پورے ملک سے عوام اسلام آباد پہنچیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کو لانگ مارچ کی دعوت دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جعلی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی مفادات کی امین ہے، تحریک عدم اعتماد 22 کروڑ عوام کی امیدوں کا مظہر ہے، تحریک عدم اعتماد کا سامنے کرنے کے بجائے ارکان اسمبلی کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

فضل الرحمان نے کہا کہ نااہل وزیراعظم اور ان حکومت آئین شکنی اور فساد کی راہ اختیار کرچکی ہے، حکومت کے پاس ہمت ہے تو 172 افراد پورا کرے۔ متحدہ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ 23مارچ کو ظہر کے بعد سے لوگ لانگ مارچ کے لیے روانہ ہوں گے، 48 گھنٹوں میں پی ڈی ایم کا باضابطہ سربراہی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ہم اسلام آباد میں بہت کچھ کرنے جا رہے ہیں ان کو چھٹی کا دودھ یاد دلائیں گے، انہوں نے دھمکیاں دی ہیں یہ کوئی مذاق کی بات ہے، پبلک کو غلام سمجھ رکھا ہے۔ ہم ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ان کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے، ہم ڈنڈے کا جواب ڈنڈے اور پتھر کا جواب پتھر سے دیں گے۔


FaceBook
-->