وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کا بل مسترد 125

وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کا بل مسترد

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم و تربیت نے وزیر اعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کا بل مسترد کر ديا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں چيئرمين کميٹی عرفان صديقی نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس ریاست کی ملکیت ہے عمران خان کی نہیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں تعلیمی ادارہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔

رائے شماری کے دوران کمیٹی کے 5 ارکان نے مخالفت جبکہ 2 نے حمايت ميں ووٹ ديا۔ سینیٹر رانا مقبول کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں تعلیمی ادارہ بناکر باقی ادارے ختم کردیں۔ اجلاس میں مفت اور لازمی تعلیم کے حق کا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 11 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و فنی تربیت نے وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور کر لیا تھا جبکہ منصوبے کی تکمیل کے لیے 72 ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران  وزارت تعلیم کے حکام نے کمیٹی کے شرکا کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یو ای ای ٹی کے لیے وزیر اعظم ہاؤس میں 52 ایکڑ جبکہ کری روڈ کے قریب 205 ایکڑ اراضی مختص کی جا چکی ہے ۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے کل 72 ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے .

 کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے لیے رواں برس 3500 ملین روپے رکھے گئے جب کہ ایکنک کی طرف سے پہلے ہی 23.54 ارب روپے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس یونیورسٹی کی پہلی کلاس کا اجرا بہار 2022 میں ہو جائے۔


FaceBook
-->