پاکستان کا بھارت سے میزائل واقعے کی مشترکہ تحقیقات کامطالبہ 99

پاکستان کا بھارت سے میزائل واقعے کی مشترکہ تحقیقات کامطالبہ

پاکستان نے بھارت سے سپر سونک میزائل لانچ ہونے اور پاکستان میں گرنے کے معاملے کی مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ میزائل لانچ کو تکنیکی خرابی قرار دینا اور اظہار افسوس کرنا کافی نہیں، عالمی برادری واقعے کا سختی سے نوٹس لے۔ پاکستان اس معاملے پر 7 سوالات بھی بھارت کو بھجواچکا ہے۔

دفتر خارجہ سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے میزائل فائر کا سنجیدہ معاملہ بھارتی حکام کی سادہ وضاحت سے حل نہیں ہوسکتا، پاکستان معاملے کی مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ واقعے کے حقائق سامنے آسکیں۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعہ اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کے اسٹریٹجک ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے میں بہت سی خامیاں اور سنجیدہ نوعیت کی فنی کوتاہیاں ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 9 مارچ کو ایک چیز (میزائل) بھارت سے اڑی اور پاکستان کے علاقے میں گری تھا، ابتدائی اندازے کے مطابق وہ ایک سپر سانک میزائل تھا۔

بھارتی وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی تھی کہ رواں ہفتے بدھ کو ’تکنیکی خرابی‘ کی وجہ سے ان کا ایک میزائل پاکستانی علاقے میں گرا تھا۔

بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ تکنیکی خرابی کے سبب حادثاتی طور پر ایک میزائل فائر ہوگیا تھا، اس واقعے کا نوٹس لیا گیا ہے اور اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میزائل آنےکاواقعہ پاک بھارت جھڑپ کاذريعہ بن سکتاتھا،شاہ محمود

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو اس پر جواب دینے کا کہا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ایک جوہری ملک پر میزائل فائر دو ملکوں کے درمیان جنگ کا سبب بن سکتا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بھارت کو یہ تسلیم کرنے میں دو دن لگ گئے کہ معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس کا میزائل پاکستانی علاقے میں گرگیا۔

اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے سپر سونک میزائل نے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کی اور 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، اس نے بین الاقوامی اور مقامی کمرشل جہازوں اور مسافروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالا۔

مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا ک اس واقعے نے حساس ٹیکنالوجی رکھنے کی بھارتی صلاحیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیئے ہیں، یہ کیسا ملک ہے جس کا میزائل چل گیا اور وہ دو دن بعد وضاحت پیش کررہا ہے، میزائل غلطی سے فائر ہوجانے کی بھارتی وضاحت بھی مشکوک ہے۔


FaceBook
-->