کی لیس کاریں چوروں کا آسان ہدف کیوں؟ 125

کی لیس کاریں چوروں کا آسان ہدف کیوں؟

لاہور میں کروڑوں روپے مالیت کی “کی لیس” گاڑیاں سافٹ وئیر ہیک کر کے چوری ہونے لگیں۔

کی لیس کاریں یعنی بنا چابی کے گاڑی جو ایک سنگل کلک پر  اسٹارٹ ہوتی ہے اور یہی وہ وجہ ہے کہ شاطر کار چوروں نے اسکو آسان ہدف بنا لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کار مینو چیک رنگ کمپنیوں کو سافٹ وئیر اپ گریڈ کرنا ہوگا۔

باڑہ مارکیٹ سے ملنے والی چند ڈیوائسز اور ایک کریمنل مائنڈ شہر کی سڑکوں پہ دوڑتی گاڑیوں کی سیکیورٹی صرف آٹھ سے دس منٹ میں بریک کرکے کار چوری کی واردات کرسکتا ہے۔

باڑہ مارکیٹ کی چند ڈیوائسزسے ایک کریمنلز مائنڈ کی درجنوں وارداتیں، جدید طریقہ واردات کاماسٹرمائنڈافنان خان پکڑاگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے9گاڑیاں برآمد کرلی گئیں۔

ملزم کا کہنا ہے کہ سافٹ وئیر ہیک کرنے کےلیے ڈیجیٹل کی ماسٹر استعمال کرتے ہیں اور گاڑی چوری کرنے میں 8 سے10 منٹ لگتے ہیں۔

آفتاب پھلروان کا کہنا ہے کہ ایسے  کار چور گروپس کے تانے بانے خیبر پختونخواہ سے ملتے ہیں، شہر سے چوری ہونے والی 90 فیصد گاڑیوں کی خریدو فروخت وہیں  ہوتی ہے۔

 سافٹ وئیر کی مدد سے کار چوری کو روکنا جدید پولیسنگ کے لیے نیا چیلنج ہے اس  طریقہ واردات کوروکنے  کے لیے اینٹی وہیکل لفٹنگ اسٹاف کو اپنی کارکردگی جدید  تقاضوں سے ہم آہنگ کرنی ہو گی ۔


FaceBook
-->