سری لنکن کرکٹ بورڈ اور ٹام موڈی کے مابین تنخواہ کا تنازعہ 14

سری لنکن کرکٹ بورڈ اور ٹام موڈی کے مابین تنخواہ کا تنازعہ

سری لنکا کرکٹ بورڈ اور سابق آسٹریلوی آل راؤنڈر ٹام موڈی کے مابین تنخواہ میں اضافے کا تنازعہ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی سابق آل راؤنڈر ٹام موڈی سری لنکا کے ڈائریکٹر آف کرکٹ کے طور پر اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) کے سیکرٹری موہن ڈی سلوا نے ایک خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ 56 سالہ ٹام موڈی کا تین سالہ معاہدہ “باہمی معاہدے” کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ کے ایک سینئر ذرائع جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ 40 ملین ڈالر سے زیادہ کی بچت کے باوجود سری لنکن کرکٹ بورڈ طویل مدت کے لیے ٹام موڈی کی تنخواہ میں اضافہ برداشت نہیں کر سکتا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بھی لگتا ہے کہ ہمیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو زیادہ ہینڈ آن ہو اور سری لنکا میں زیادہ وقت گزار سکے۔

ذرائع نے بتایا کہ سابق ٹیسٹ کھلاڑی کو 1850 ڈالرز یومیہ ادا کیے گئے اور اس کے علاوہ ٹام موڈی کو سال کے 100 دنوں تک ملک سے باہر رہنے کے اخراجات بھی ادا کئے گئے۔

سینئیر ذرائع نے کہا کہ سری لنکا کرکٹ بورڈ ٹام موڈی سے سری لنکا میں زیادہ وقت گزارنے کی توقع کر رہا تھا مگر وہ بدترین معاشی بدحالی کا شکار ملک میں زیادہ وقت گزارنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایک اور ذریعے نے بتایا کہ سابق آل راؤنڈر ٹام موڈی اس ماہ کے آخر تک یا اگلے ماہ آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے رخصت ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے سابق ہیڈ کوچ موڈی کو گزشتہ سال فروری میں کرکٹ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا تاکہ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2023 میں بھارت میں ہونے والے 50 اوورز کے عالمی کپ کے لیے تیار کیا جا سکے۔

سابق آل راؤنڈر ٹام موڈی کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

لیکن ٹام موڈی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں قائم ہونے والی انٹرنیشنل لیگ ٹی ٹوئنٹی میں ڈیزرٹ وائپرز میں اسی طرح کے ڈائریکٹر کرکٹ پوسٹ لے رہے ہیں۔

ٹام موڈی کا کہنا تھا کہ سری لنکا اس ماہ کے شروع میں ایشیا کپ کے حیران کن فاتح بن کر ابھرا، جسے ورلڈ کپ کے لیے ایک ٹیون اپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

بطور ڈائریکٹر کرکٹ موڈی نے کارکردگی کی بنیاد پراضافی تنخواہ کا ڈھانچہ تیار کیا تھا جس کی سری لنکن قومی اسکواڈ نے بھی تنقید کی تھی۔

یاد رہے کہ سری لنکا کو گزشتہ سال کے اواخر سے خوراک، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، لیکن سری لنکن کرکٹ بورڈ حکام کے مطابق بورڈ کی تجوری اب بھی نوٹوں سے بھری ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکن کرٹ بورڈ نے پچھلے ہفتے کینسر کے ایک اسپتال کو نصف ملین ڈالرا کا عطیہ دیا جسے زندگی بچانے والی ادویات اور طبی آلات کی اشد ضرورت ہے۔

<!––>



Source link

abdul aziz siddiqui
Author: abdul aziz siddiqui

Abdul Aziz Siddiqui Advocate ||Writer ||columnist at khabraindaily @Azizsiddiqui100 is senior lawyer and columnist from Karachi

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں