109

۔9 چیزیں جو انسانی دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں

انسانی دماغ پورے جسم میں سب سے حیرت انگیز نازک اور  سب سے طاقتور آرگن ہے انسانی جسم میں اس کی اہمیت کی وجہ سے گزشتہ 25 برس میں انسانی دماغ پر بہت زیادہ تحقیقات کی گئی ہیں ۔ان تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی دماغ کو جتنا زیادہ طاقتور اور قابل قدر اللہ تعالی نے بنایا ہے ہم اس سے کئی کم اس کا استعمال کرتے ہیں ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم روز مرہ زندگی میں کئی ایسے کام کر جاتے ہیں جن کی وجہ سے ہماری دماغی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہے۔ اس تحریرمیں ہم آپ کو ایسے 9 طریقے بتا رہے ہیں جنہیں چھوڑ کر اپ اپنی برین پاور یعنی دماغ کی قوت اور صلاحیت کو کئ گنا بڑھا سکتے ہیں اور وہ بھی صرف ایک ہفتے میں۔

(Lack of sleep)۔ 1 نیند کی کمی

برگلے میں کیرفول یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی ریسرچ کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ نیند کی کمی سے  یادداشت کمزور ہو جاتی ہے اور یہ کمی آگے چل کر الزائمر کا باعث بنتی ہے ۔جب ہم سوتے ہیں تو برین سیلز ایسے زہریلے مرکبات خارج کرتے ہیں جو دماغ کے لیے خطرناک ہوتے ہیں جو لوگ اکثر نیند پوری نہیں لیتےیہ زہریلے مرکبات ان کے دماغ میں جمع ہوتے ہی رہتے ہیں اور دماغ کی کارگردگی پر  خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں اس لئے نیند کی کمی سے بچیں۔


(deep stress)۔ 2 طویل سٹریس

طویل سٹریس یعنی طویل عرصے تک اگر ذہنی دباؤ رہے تو سیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی سیلف کنٹرول اور یادداشت میں بھی کم ہوتی ہے ۔نیند کی کمی کا شکار افراد جلد غصے میں آ جاتے ہیں ۔چڑچڑے ہو تے ہیں اور اکثر ٹینشن میں رہتے ہیں ۔یہ لوگ اکثر کاموں پرزیادہ  دیر تک توجہ  نہیں دےپاتے۔

(Hate and jealousy)۔3نفرت اور حسد

برطانوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہےکہ نفرت اور محبت اگرچہ متضاد جزبات ہیں لیکن یہ دماغ کی ایک ہی سے ایک ہی حصے میں پیدا ہوتے ہیں اس کے باوجود جس حصے میں جج مینت اور لوجیکل تھنکنگ وغیرہ پیدا ہوتے ہیں  محبت کا احساس اسکی ایکٹیویٹی کو کم کرتا ہے جب کہ غصہ جج مینت اور لوجیکل تھنکنگ والے عناصر کو تحریک دیتاہے۔جج مینٹ اور لوجیکل تھنکینگ دوایسے عوال ہیں جو انسانی تعلقات کو صرف خراب ہی  نہیں برباد کر ڈالتے ہیں ۔اب یہ بات تو اکثر قارئین اچھی طرح سمجھتے ہی ہونگے ۔

(dehydration) ۔4 ڈی ہائیڈریشن

انسانی دماغ پانی کی کمی سے بہت زیادہ متاثر ہوتا  ہے۔ہمارے دماغ کا 80%پانی پر مشتمل ہے ۔اس لیےدماغ میں پانی کی 2٪ کمی سے بھی تو جہ اور حاضری دماغ کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں ۔نہ صرف یہ بلکہ پانی کی کمی سے  یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت  پر بھی برا اثر پڑتا ہے ۔

(pregnancy)۔5 حمل

سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ دوران حمل دماغ کے ایک اہم حصہ گرے میٹر میں تبدیلی آجاتی ہے جس کی وجہ سے سوشل اسکلز متاثر ہوتی ہے اور یوں حاملہ کے لئے دوسروں کو سمجھنا اور ان سے تعلقات استوار  رکھنا مشکل تر ہوجاتاہے  ۔تاہم اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حاملہ کیلئے اپنے زیر نمو بچے سے تعلق مضبوط کرنا  اور اس کی ضروریات کا خیال رکھنا آسان ہوتا ہے ۔یوں ہونے والی ماں اپنے  نئے بچے کو ممکنہ خطرات سے زیادہ سے زیادہ بچانے کے قابل ہوتی ہے

(Plenty of sweetness)۔6  مٹھاس کی کثرت

کھانوں میں مٹھاس کی کثرت خاص کر سفید شکر کی کثرت سے یاداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے کیوں کہ شکرزیادہ لینے سے دماغ کی رفتار سست ہوتی ہے اور یوں سیکھنے  ،معلومات محفوظ کرنے اور فوکس کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے ۔سائنسدان کہتے ہیں کہ شکر کے استعمال سے دماغ کی نیورو کنکشنز تباہ ہو جاتے ہیں البتہ ہاں قدرتی مٹھاس میں یہ نقصانات نہیں ہوتے لیکن سوڈا ڈرنکس ،کینڈیز ،آئسکریم وغیرہ میں موجود انڈسٹریل شوگر  دماغ کے لئے بہت خطرناک ہیں البتہ مچھلی اور مچھلی کا تیل اس   خطرے کو کم کرتے ہیں

(Bad family relationships)۔7 خراب گھریلو تعلقات

اچھے گھریلو تعلقات کے انسانی دماغ پر گہرے مثبت اثرات ہوتے ہیں تحقیقات کے مطابق میاں بیوی میں آپس کی محبت اور روحانی تعلق دماغ کے ایسے حصے کو تحریک دیتا ہے جس سے میاں بیوی میں مزید محبت پروان چڑھتی ہے ساتھ ہی خوف اور ڈپریشن کے   احساسات کم ہو جاتے ہیں اور راحت و سکون کا احساس بھی بڑھتا ہے

(Creative work)۔8 تخلیقی کام

تخلیقی کام خاص طور پر پینٹنگ سے دماغ کی کارکردگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اور عمر بڑھنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے سائنسدانوں نے 62برس سے 70 برس کے لوگوں پر تحقیق کی ان میں سے نصف کو آرٹس ہسٹری کے کورس میں داخلہ دیا گیا جبکہ کے نصف آخر کو پینٹنگ سکھائی گئی جن لوگوں نے پینٹنگ کی کلاسز لی تھیں ان کی زندگی پر گہرے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے اس لیے کچھ نہ کچھ کریٹیو  ضرور کیجئے اور کچھ نہ ہو سکے تو برش اور اور کلر لے کر کسی کاغذ پر میناکاری شروع کر دیجیئے

(Distance from book)۔9 کتاب سے دوری

آ کسفورڈ کے سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کتاب پڑھنے کا عمل دماغ کی کوگنیٹیو مہارت کوبڑھاتا ہے۔کتاب کا مطالعہ دماغ کے ایسے حصوں میں کو بھی متحرک کرتا ہے جو دیگر کاموں کے دوران مددگار ہوتے ہیں  دوران مطالعہ خون دماغ کے ان حصوں میں زیادہ جاتا ہے جو توجہ اور سوچ بچار کے ذمہ دار ہوتے ہیں  اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ  ٹی وی دیکھنے یا کمپیوٹر گیمز کھیلنے کے دوران بھی  

بھی اگر اگرچہ ہمارا دماغ مصروف رہتا ہے لیکن اس دوران دماغ کووہ فائدہ نہیں ہوتا جو کتاب کے مطالعے کے دوران اس سے حاصل ہوتا ہے۔ تو پھر انتظار کس بات کا آج سے کتاب کے مطالب کو اپنی زندگی کے لازمی کاموں میں شامل کر لیجئے جناب ہم نے آپ کو اوپر جو نو کام بتائے ہیں انہیں چھوڑ کر آپ اپنی دماغ کی قوت و صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں اور وہ بھی صرف ایک ہفتے میں ہاں باقاعدگی سے عمل شرط لازمی  ہے

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں