islamic post 128

–سب دوستوں کے لیئے ایک تحریر

لفظ اچھے یا برے ہوسکتے ہیں مگر کیسے پتہ چلے کہ انکے کہنے والا بھی برا ہے۔ اللہ پاک ایک کتے کو پانی پلانے پر طوائف کو بخش سکتا ہے اور کسی کی دل آزاری کرنے پر ایک پنج وقتہ نمازی کو جہنم میں ڈال سکتا ہے ۔انسان کو چاہیئے کہ اپنا منہ کھولنے سے پہلے اپنے لفظوں کو عقل کی کسوٹی پر پرکھ لے کیونکہ کہتے ہیں کہ “لفظوں کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ کاٹ لیتے ہیں ۔”

اکثر ہم بے دھیانی میں بھی کچھ ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو سامنے والے کی دل آزاری کا سبب بن جاتی ہیں ہمیں جب تک ادراک ہوتا ہے دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ دنیا میں اکثر لوگ اپنی زبان سے نکلے ہوئے دو لفظوں کی وجہ سے ساری زندگی پچھتاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے میٹھے بولوں کی وجہ سے ہر دل میں گھر کرجاتے ہیں ۔
گالی گولی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے یہ نہ صرف انسان کی روح میں چھید کرتی ہے بلکہ بظاہر زندہ انسان کو اندر سے مار دیتی ہے کتنی عام بات ہم اختلاف رائے ہونے پر کسی کو بھی گالی دے ڈالتے ہیں اپنے بچوں کو غصے میں آکر گالی دے دیتے ہیں ۔

اپنے ماتحتوں کو نوکروں کو اور کبھی کبھی اپنے دوستوں تک کو معمولی بات پر گالی دے دیتے ہیں برے الفاظ کہہ دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اسکا کسی کے دل پر کیا اثر ہوگا۔عقل تو فرعون میں بھی تھی، نمرود میں بھی تھی ، شداد میں بھی تھی لیکن ان کی سوچ نے انہیں تباہ کردیا ، انسان جو دیکھتا ہے ۔تو اسی کے مطابق سوچتا ہے اور بنا تحقیق ہر سوچ نقصان دہ ہوتی ہے ۔

اگر دیکھا جائے تو ہر شخص کے نزدیک اس کی اپنی ایک حد ہے کسی کو کوئی بات بُری لگتی ہے تو دوسرے کو اچھی لگتی ہے ، میری حد کیا ہے میں جانتی ہوں کون کتنا اچھا ہے یا کتنا بُرا یہ صرف اللہ جانتا ہے۔یہاں کوئی کسی کو نہیں جانتا کیوں کہ ہر شخص پر ایک خول چڑھا ھوا ہے ہم سے کوئی پرفیکٹ نہیں ہم سب میں کمیاں ہیں خامیاں جنہیں چھپانے کے لیئے سب ہی کسی نا کسی خول میں چھپے رہتے ہیں۔

ہمارا اصل ہمارے رب کو ہی پتہ ہے ۔دعا ہے اللہ ہم سب کا ظاہر باطن ایک کردے ہم سب کو ہمیشہ ایک دوسرے سے محبت اور اپنائیت کے دھاگوں سے باندھے رکھے آمین

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں