Al-Aqsa Mosque and Soleimani Temple 107

مسجد اقصیٰ اور ہیکلِ سلیمانی


عام طور پر مشہور ہے کہ مسجد اقصیٰ کی پہلی تعمیر حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام نے کی، لیکن یہ بات صحیح نہیں ۔

بخاری شریف میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی صحیح روایت موجود ہے کہ بیت اللہ اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا فاصلہ ہے اور بیت اللہ کی تعمیر ابتداۓ آفرینش میں حضرت آدم علیہ السلام نے بحکم الٰہی کی تھی، (حضرت ابراھیم علیہ السلام نے انہی کی قائم کردہ بنیادوں پر تعمیر نو کی تھی) اس حساب سے بیت المقدس کی اولین تعمیر سیدنا حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام سے بہت عرصہ قبل ہو چکی تھی۔

اس طرح یہودیوں کا یہ دعویٰ ہی سرے سے باطل ہوجاتا ہے کہ یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے سب سے پہلے ہیکل (عبادت گاہ) تعمیر کی تھی، البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کی تعمیر نو حضرت سلیمان علیہ السلام نے کی ہے، لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام سے صدیوں قبل یہاں ہیکل موجود تھا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بھی کئ مرتبہ یہاں نئی تعمیرات ہوئی ہیں، بعض مرتبہ تو زلزلہ یا حملہ آوروں کی لوٹ مار سے مکمل انہدام کے بعد بھی نئی تعمیر ہوئی ہے، جو کبھی یہود کے جانی دشمنوں عیسائیوں اور کبھی مسلمانوں نے کی، تو یہودی کس کی وراثت کا دعویٰ کریں گے؟ ایک طویل عرصہ تو یہاں ایسا گزرا کہ یہاں تباہ شدہ ملبے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ نے جب ان کی بداعمالیوں کی بنا پر سزا دینی چاہی تو چھٹی صدی قبل از مسیح کے اوائل میں بابل کے حکمران بخت نصر نے یروشلم کو فتح کر کے پیوند زمیں کردیا اور یہودیوں کے مذہبی صحیفے نذر آتش کر کے ایک لاکھ یہودیوں کو قید کر کے بابل لے گیا سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اس واقعے کی طرف اشارہ موجود ہے، یہود کے عذاب الٰہی میں گرفتار رہنے کے اس زمانے میں تقریباً ڈیڑھ صدی تک یہاں سوائے ویرانی کے اور کچھ نہ تھا۔

اس کے بعد اہل مصر، فارسیوں اور رومیوں کی حکومتوں نے مختلف ادوار یہاں گزارے اور ان کے دور میں یہاں تعمیرات بنتی اور اْجڑتی رہیں، مختلف اقوام کی حکومتوں کی، اس طویل تاریخ کے ہوتے ہوئے یہودی نجانے کس طرح اس جگہ پر دعویٰ کرتے ہیں؟ ان کا یہ بے جا دعوی ان کی اس تاریخی بدبختی کا حصہ ہے جس کی بنا پر وہ مختلف اقوام عالم کو اپنا دشمن بنا کر ان سے ماریں کھاتے رہے اور اب مسلمانوں کی مخالفت مول لے کر اپنے لیے فیصلہ کن شکست کی بنیاد رکھ ہے ہیں۔

فتح سے تعمیر تک

اسلام کا آفتاب عالم تاب جب طلوع ہوا تو حضورﷺ رجب 2 ہجری، 16 یا 17 ماہ تک اس مقام کی طرف رْخ کر کے نماز پڑھتے رہے، اس لیے یہ مسلمانوں کا قبلہ اول اور ثالث الحرمین کہلاتا ہے، واضح رہے کہ مسجدِ اقصیٰ کا مصداق وہ سارا حرم قدسی ہے جس کے گرد ایک فصیل قائم ہے، اس میں مختلف عمارتیں ہیں اور قبلۂ اول اس میں موجود وہ چٹان ہے جس پر زرد رنگ کا خوبصورت گنبد قائم ہے۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے اس شہر کو فتح کیا تو اس وقت یہاں کے عیسائی حکمرانوں اور پادریوں کی بے توجہی اور بے ادبی کی وجہ سے یہ ساری جگہ ویران تھی اور مقدس چٹان پر کوڑا کرکٹ پڑا ہوا تھا،

اموی دور خلافت میں جب مرکز خلافت شام تھا تو بیت المقدس کو خاص اہمیت حاصل ہوئی اور اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک نے مسجد اقصیٰ کی نئی تعمیر کی، مؤرخین کا کہنا ہے کہ جس طرح بیت المقدس کی فتح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کارنامہ ہے، اس طرح اس کی شاندار تعمیر کا اعزاز اموی خلفاء کو حاصل ہے، بعدازاں سلاطین اسلام اس کی دیکھ بھال تعمیر ومرمت اور تزئین و آراستگی اور اضافات کرتے رہے ۔

Sabir Hussain

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں