Adeel ellahabdi writer at khabraindaily.com 162

صدیوں پرانا کھیل کبڈی

کبڈی صدیوں پرانا کھیل ہے جو جنوبی ایشیاء کے ہر ملک میں کھیلا جاتا ہے ربع صدی پہلے تک پاکستان اور خاص طور پر یہ جنوبی پنجاب میں یہ کھیل مقبول تھااور شہہ زور اپنے فن اور قوت کے اظہار کیلئے اس کھیل کو اولین ترجیح قرار دیتے تھے۔

یہ کھیل کھلے میدان میں کھیلا جاتا ہے کبڈی کے میدان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے درمیان میں ایک حد فاصل قائم کی جاتی ہے میدان کا ایک حصہ ایک ٹیم کو جبکہ دوسرا حصہ ڈوسری ٹیم کیلئے مختص کیا جاتا ہے ۔

ہر ٹیم کے دو کھلاڑی مد مقا بل ہوتے ہیں جن میں پکڑنے والے کھلاڑی کو جاپھی اور دوسرے کو ساہی کہا جاتا ہے اس کبڈی کے میچ میں صرف دو کھلاڑی مد مقابل ہوتے ہیں۔
کبڈی واقعی ایک دلچسپ کھیل ہے۔اس کے کھلاڑی کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے بھی خود ہی فکر مند رہ کر بچاؤ کا طریقہ سوچنا پڑتاہے۔

یہ کھیل ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے۔ گرمی اور برسا ت کے موسم میں شام کے وقت یہ کھیل بہت لطف دیتا ہے۔ جب دوڑتے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بدن کولگتی ہے تو طبیعت میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔کبڈی کے کھیل کے لیے کسی خاص سازوسامان یا اہتمام کی ضرورنہیں ہوتی۔ دیہاتی بچے اور نوجوان پچھلے پہر کسی کھلے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

کھیل میں حصہ لینے والے برابر کھلاڑیوں کی دو ٹولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ درمیان میں ایک ایک لکیر کھینچی جاتی ہے اسے ”پالا” کہا جاتا ہے۔ اس لکیر کے دونوں سروں پر اینٹیں یا کچھ نشان رکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے۔

دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس درمیانی لکیر کے دونوں طرف دائرہ بناتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیم کا ایک کھلاڑی لکیر سے اندر آکر کبڈی کبڈی کہتا ہوا مخالف ٹیم کی طرف جاتا ہے اور کوشش کرتاہے کہ کسی کھلاڑی کو چھو کر ایک سانس ہی میں واپس آجائے۔

راستہ میں کہیں دم نہ ٹوٹے۔ اس طرف کے کھلاڑی یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اسے پکڑ لے اور ایک ہی سانس میں اسے واپس جانے نہ دے۔جب سانس ٹو ٹ جاتا ہے تو کھلاڑی ہار جاتا ہے۔ کھیل کی زبان میں کہاجاتا ہے کہ یہ کھلاڑی مر گیا ہے۔

اگر وہ واپس آجائے تو پھر جس کھلاڑی کو اس نے چھوا تھا، مرا ہوا کھلاڑی کہتے ہیں۔ جس ٹیم کے سارے کھلاڑی پہلے مر جائیں وہ ٹیم ہار جاتی ہے۔ مرا ہوا کھلاڑی کھیل میں واپس حصہ نہیں لے سکتا جب تک مخالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی مر نہ جائے۔

آج کل اس کھیل کے میں کافی اصلاح کردی گئی ہے۔ ا ب اس میں کھلاڑی مرتے نہیں بلکہ ہار جیت کا فیصلہ پوائنٹس کے ذریعے کرتے ہیں۔ جس ٹیم کے پوائنٹس زیادہ ہوتے ہیں وہ ٹیم جیت جاتی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ لوگ لمبی کبڈی بھی کھیلتے ہیں۔

اس میں کھلاڑی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو چھو کر ایک ہی سانس میں واپس آجاتا ہے۔ مخالف ٹیم اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اس سے دور بھاگتی ہے تاکہ وہ انہیں چھو نہ لے۔شہری نوجوان کافی مد ت تک اس کھیل کا مذاق اڑاتے رہے۔

اسے گنواروں کا کھیل کہتے رہے لیکن جب تک محکمہ تعلیم نے اس کھیل کواپنایا اور اسکول کے دوسرے کھیلوں کے ساتھ اس کے بھی باقاعدہ مقابلے شروع ہوئے تو شہری نوجوانوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔

ا ب یہ کھیل دیہا ت اور شہر میں یکساں دلچسپی سے کھیلا جاتاہے۔کبڈی کا کھیل پرانے زمانے کی لڑائیوں کا سماں پیش کرتا ہے۔ اس دورمیں جنگ لڑنے کا یہی انداز تھا۔ ایک جواں مرد میدان میں اترتا تھا اوراپنے حریف کو للکارتا تھا۔

دس ت بدس ت لڑائی شروع ہو جاتی۔ کبڈی کے کھیل میں جسمانی طاقت کو بہت دخل ہے۔ مضبوط ہاتھ پاؤں، چوڑا چکلا سینا، ورزشی جسم، تیز دوڑنا، سانس روکنے کی مشق اور ہارجیت کا فیصلہ،یہ سب کبڈی کے اچھے کھلاڑیوں کی خصوصیا ت ہیں۔

اس کھیل سے مقابلہ کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو تقویت ملتی ہے۔ پسینہ آنے سے بدن کھل جاتا ہے۔ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔انہی خصوصیا ت کو مدنظر رکھتے ہوئے کبڈی کا کھیل انسانی جسم کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔
کھیل کے آغاز پر ایک ٹیم کا ساہی حد فاصل سے بھاگتا ہوا دوسری ٹیم کے جاپھی کھلاڑی کی طرف لپکتا ہے جاپھی اسے پکڑتا ہے اگر ساہی جاپھی کی گرفت سے نکل کر واپس حد فاصل کو عبور کر لے تو ساہی ٹیم کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے۔

اگر ساہی اپنے آپ کو جاپھی کی گرفت سے نہ چھڑاسکے تو جاپھی ٹیم پوائنٹ حاصل کر لیتی ہے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی باری باری ایک دوسرے کے مقابل آتے رہتے ہیں آخری کھلاڑی تک جوٹیم زیادہ نمبر لے وہ کامیاب قرار دی جاتی ہے۔

اس بین الاقوامی کھیل کو وہ سہولیات میسر نہیں جو کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو حکومت کی طرف سے دی جاتی ہیں حالانکہ یہ کھیل اتنی مقبولیت حاصل کرچکاہے کہ اب اس میں خواتین کی ٹیمیں بھی شامل ہو کر مردوں کے شانہ با شانہ حصہ لے رہی ہیں عوامی شخصیات اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ کھیل روبہ انحطاط ہے۔
جنوبی پنجاب میں ثقافتی میلے جو میں گندم کی فصل کی کٹائ کے بعد منعقد ہوتے ہیں ان میلوں پر بھی کبڈی کے شور سے میدان سجایا جاتا ہے ان میں دنیا بھر کے کبڈی کے پلیئرز حصہ لیتے ہیں انکی بھر پھور حوصلہ افزائ کی جاتی ہے۔
اس زوال پذیر کھیل کے فروغ اور اس کو زندہ رکھنے کیلئے میلسی کے نواحی گاؤں الہ آباد میں آج سے بیس سال قبل کبڈی میچ کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے پورے پنجاب میں الہ آباد واحد گاؤں ہے یہاں کبڈی کلب کا قیام عمل میں لایا گیا۔

جس کے تحت ہر جمعہ کو میچ کا انعقاد ہوتا ہے اس کے منتظمین جو اپنے دور کے کبڈی کے مشہور کھلاڑی تھے ان میں حافظ عبدالرحمن،ماسٹر حفیظ احمد،سابق کونسلر غلام شبیر اور ملک محمد صادق ٹھوٹھہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس سلسے کو جاری رکھا ہوا ہے ۔

کلب کے منتظمین کھلاڑیوں کے انعامات اور دیگر اخراجات اپنی جیب سے پورا کرتے ہیں ان مقابلوں میں بین الاضلاعی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔کبڈی گراؤنڈ نہر فدہ اور کرم پور وہاڑی روڈ کے درمیان واقع ہے نہر کا کنارہ اسٹیڈیم کا کام دیتا ہے ہر جمعہ کو قرب و جوار اور دور دراز کے شائقین جمع ہوتے ہیں اور میلے کا سماں ہوتا ہے۔

قابل افسوس بات یہ ہے کہ یہ تفریحی پروگرام صرف دیہی سطح پر محدود ہے اگر حکومتی ادارے اور محکمہ سپورٹس اسکی سر پرستی کرے تو اچھی کار کردگی کے حامل کھلاڑی ملکی سطح پر اپنا نام پیدا کر سکتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دیہاتی کھلاڑی بہتر آب و ہوا میں پروان چڑھنے کے باعث زیادہ تنومند اور طاقت ور ہوتے ہیں اگر انکی صحیح خطوط پر تربیت ہو تو وہ کھیل کے میدان میں بہت آگے جا سکتے ہیں۔


تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی
میلسی(ضلع وہاڑی)
03007727075

Email: [email protected]

Adeel Ellahabadi
Author: Adeel Ellahabadi

عدیل الرحمن فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ , سب نیوز کے ساتھ بطور سوشل میڈیا کنٹینٹ ایڈیٹر منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ: EllahAbadi @کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں