column-on-the-murder-of-sri-lankan-manager-in-sialkot-pakistan 122

ہمارا معاشرہ اور عدم برداشت

گذشتہ روز سیالکوٹ میں پیش آنے والا اندوہناک قتل کا واقعہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ! ہمارا معاشرہ عدم برداشت کا شکار آخر کیوں ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟

عدم برداشت کی وجہ سے معاشرے میں آئے روز کوئی نہ کوئی سانحہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ حال ہی میں ایک سری لنکن نوجوان کو زندہ جلا دیا گیا، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی رسوائی ہوئی اور ہمارے دین اسلام پر ایک مرتبہ پھر شدت پسندی کا لیبل چپساں کیا گیا۔

ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات رونما ہوئے۔ جس میں سنہ 2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالبعلم مشال خان کو ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں انتہائی تشدد کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔

تحقیقات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس الزام کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ مشال خان مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالبعلم تھے جنھیں سال 2017 میں مشتعل ہجوم نے انتہائی تشدد کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔ مشال خان کے قتل میں 61 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا ۔

جن میں سے 57 ملزمان کو گرفتار کرکے سماعت شروع کر دی گئی تھی۔ ان میں زیادہ تر عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ اور یونیورسٹی کے ملازمین شامل تھے۔مشال خان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ توہین مذہب کے مرتکب ہوئے لیکن اس بارے میں قائم تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے تھے۔

سانحہ گوجرہ اور جوزف کالونی کے واقعے کو کئی سال گزر چکے ان کے نتائج ہمارے سامنے ہیں‘ سانحہ گوجرہ میں آٹھ مسیحی مارے گئے، جوزف کالونی کے واقعے کے جوابات آچکے، سانحہ گوجرہ میں ملوث ملزمان رہا ہو چکے۔ ہمارے عدالتی نظام،اور پولیس سسٹم پر ایسے سولات اٹھتے ہیں کہ ہمارے پاس شرمندگی کے سوا کچھ نہیں۔

‘‘اس سانحے میں ایک مسلمان چھ مسیحی مارے گئے، دو ملزمان گرفتار ہوئےجن میں سے ایک ملزم بے گناہ تھا جو بری ہوگیا، جبکہ 26 نامعلوم ملزمان تھے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے علاقے خوشاب میں بینک کے سیکورٹی گارڈ نے مینیجر کو توہین رسالت کا الزام لگا کر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

قتل کا یہ واقعہ گزشتہ سال نومبر میں خوشاب کے علاقے قائدآباد میں پیش آیا تھا۔ مجرم احمد نواز نے محمد عمران حنیف پر اس وقت فائرنگ کردی تھی جب وہ صبح کے وقت بینک میں داخل ہو رہے تھے۔ یاد رہے کہ پولیس نے واقعہ کے فوراً بعد ملزم کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا تھا۔

تاہم اسے قائد آباد تھانے منتقل کرنے کے دوران مقامی لوگوں کے ایک ہجوم نے اس کو گھیرے میں لے لیا تھا جو بعد ازاں جلوس کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ ملزم کو تھانے منتقل کرنے کے بعد لوگوں کا ہجوم بھی بڑھا یہاں تک کے اس ہجوم میں سے بہت سے افراد تھانے کی چھت تک پہنچ گئے تھے۔

خوشاب پولیس کے ترجمان کے مطابق قتل کا یہ واقعہ پولیس کے لیے ایک چیلنج تھا جس کی تفتیش جدید طرز پر کرنے کے ساتھ یہ کوشش بھی کی گئی کہ اس مقدمے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوئے

فیصلے کے بعد محمد عمران حنیف کے چھوٹے بھائی کا کہنا تھا کہ انھوں نے انتہائی مشکل حالات میں یہ مقدمہ لڑا ہے۔ ’ہر وقت یہ خوف سوار رہتا تھا کہ جو الزام بھائی پر لگایا گیا تھا اس کے نتیجے میں ہم لوگوں کو کوئی نقصاں نہ پہنچ جائے۔

مگر اس اہم وقت میں پولیس، انتظامیہ اور علما کی جانب سے ایک پچاس رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی نے اپنی پوری تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں مجرم ہمارے بھائی پر توہین رسالت کا کوئی الزام ثابت نہیں کرسکا۔ ہم اتنے عدم برداشت کا شکار کیوں ہیں کے کوئی بھی اگر کسی پر الزام لگا دے ۔

توہین رسالت کا یا توہین مذہب کا تو ہم ہجوم کی صورت میں نکل پڑتے ہیں اور انتہا پسند اپنا کام کر گزرتے ہیں۔ یہ تو چند واقعات ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی ایسے کئی واقعات ہیں۔

اگر کسی نے توہین مذہب یا توہین رسالت کی تو آپ کون ہوتے ہیں اسے سزا سنانے والے اس کے لئے ریاست ہے قانون ہے۔ آپ کیسے قانون کو ہاتھ میں لے کر درندگی کی انتہا کر سکتے ہیں ۔

ہمارے دین میں تو کسی کو ناحق قتل کرنے کی اجازت نہیں، چاہے سو مجرم چھوٹ جائیں پھر بھی کسی بیگناہ کو سزا نہ ہو ایسا ہے ہمارا دین جو کے امن کا درس دیتا ہے نہ کے شدت پسندی اور اشتعال انگیزی کا درس دیتا ہے۔

ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کیا دشمنان اسلام کو بھی معافی دے کر ایک مثال قائم کی۔ اور ایک ہم ہیں جو خود کو عاشق رسول کہتے ہیں اور لوگوں کو اشتعال دلا کر قتل غارت گری کرتے ہیں۔ نہیں وہ عاشق رسول نہیں ہوسکتے۔

جنہوں نے سیالکوٹ میں ایک غیر ملکی کو بربریت کا نشان بنایا۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں حیوانیت کی انتہا ہے ایسے لوگوں کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہو سکتا۔ ہمارے نبی نے ہر حال میں صبر کا درس دیا اور خود مثال بنے اہل طائف کے واقعات سن لیں۔

امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ جنہوں نے اپنا پورا خاندان قربان کرکے اسلام کو زندہ کیا۔ اور ایک یے عاشق رسول ہونے کا دعوی کرنے والے ڈھونگی ذاتی عناد پر کسی کو بلی چڑھا کر فخر سے کہتے ہیں ہم نے اس کو جہنم واصل کردیا۔ چاہے اس نے جتنا بھی بڑا گناہ کیا تھا اس کو سمجھاتے وہ پھر بھی نہ سمجھتا تو قانون کے حوالے کرتے۔ اسے صفائی کا موقع دیا جاتا۔

کیا سعودی عرب میں اگر آپکی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے تو آپ کو یے پوچھنے کا حق نہیں ہے کے کیوں گاڑی ماری چاہے جتنا بڑا نقصان ہو مرور آئے گا جو فیصلہ کرے گا آپ کو منظور کرنا پڑے گا۔ اور ایک پاکستان ہے جہاں اگر ایک چھوٹی خراش گاڑی پر آجائے غلطی سے تو لوگ پہلے تو دو گھنٹے لڑنے مارنے پر اتر آتے ہیں روڈ بند کر دیتے ہیں گالی گلوچ کرتے ہیں ۔

آجکل میں نے نہیں سنا کے مجمع نے کسی کو مارا ہو بلکہ وہاں کسی پر ہاتھ اٹھانا سخت جرم سمجھا جاتا ہے۔ اور ایک ہم ہیں کسی کو صفائی کا موقع بھی نہیں دیتے۔ خود ہی فیصلے کرتے ہیں۔

خود ہی سزائیں دیتے ہیں یہاں تو بہت کم غیر ملکی ہیں اگر یہاں زیادہ غیر ملکی ہوں کام کرنے والے تو ہم آئے دن کسی کو توہین رسالت یا توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کردیں۔ مستقبل میں کون آئے گا پاکستان میں کام کرنے ان حالات میں تو کبھی نہیں آئے گا کوئی۔

میری علماء کرام اور حکومت وقت سے گزارش ہے کہ اس واقعے کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دے کر عبرت کا نشان بنائیں تاکہ آئندہ کوئی اسلام اور پاکستان کی بدنامی کا باعث نہ بنے اور قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔اللہ تعالی وطن عزیز کو شر پسند عناصر سے محفوظ رکھے آمین۔

Saqib Mehmood
Author: Saqib Mehmood

Saqib Mehmood is a writer||Columnist||Blogger ||works at khabraindaily

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں