Column by saqib mehmood 65

وطن عزیز نعمت عظیم۔


وطن عزیز رب العزت کی ایک ایسی عظیم نعمت اور ایسا انعام ہے ہمارے لئے اور تمام عالم اسلام کے لئےکیونکہ عالم کفرپاکستان کے نام سے خوف کھاتا ہے۔اور ہم اس نعمت خداوندی کیلئے رب کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے ایک تو ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور دوسرا ہمارے آباو اجداد کی قربانیوں سے وجود میں آئی ۔

ایک اسلامی ریاست پاک سرزمین پے آنکھ کھولی اور سب سے بڑی بات اکلوتا مسلم ایٹمی پاور کا حامل وطن پاک ہمیں ملا جو ہمارے لئے باعث فخر ہے۔وطن عزیز ہزاروں جانوں کی قربانیوں اور اولیاء اللہ کی دعاؤں کاثمر ہے۔

آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔23مارچ 1947 کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاک وطن 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔کیونکہ اگست کا مہینہ ہے جشن آزادی کا دن قریب ہے اس دن کی نسبت سے کچھ الفاظ تحریر کر رہا ہوں۔14

اگست 1947 قربانیوں کی داستان۔۔۔خون کی ایک ایسی لکیر جس سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے علیدہ وطن کا نقشہ کھینچااور جن کے صدقے آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔1947 سے لیکر آج تک دشمن کو مسلمانوں کا یے عظیم وطن ایک آنکھ نہیں بھایا اس لئے دشمن آج تک وطن عزیز کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں میں مصروف کار ہے1947

سے لے کر آج تک وطن عزیز کی بقا اور سالمیت کیلئے لاکھوں شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جس کی وجہ سے وطن عزیز آج مضبوط اور مستحکم پوزیشن پر موجود ہے۔پاکستان کا قیام شب قدر جمعتہ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ہجری بمطابق 14 اگست1947ءعمل میں آیا ۔

ظہورِوطن کا یہ دن جمعتہ الوداع ماہ رمضان المبارک اور شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ خالق کائنات کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس سے رمضان،قرآن اور پاکستان کی نسبت کا پتا چلتا ہے۔

یہ شب عبادت پاکستان کی سعادت جمعتہ الوداع اس مملکت خداداد کی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔رمضان اور قرآن استحکام پاکستان کے ضامن اور آزادی کے محافظ ہیں۔دو قومی نظریہ درحقیقت اسلام کے عقائد اور اعمال کا نام ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح بانی پاکستان اس نظریاتی اساس کے پاسدار تھے۔وہ قرآن مجید کو ہی پاکستان کا آئین اور قانون تصور کرتے تھے۔علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اسلامی نظام کے حوالے سے ہی مسلمانان ہند کی تحریک آزادی کے علمبردار تھے۔ہمیں چاہیے کے خداوند کریم کی دی ہوئی اس عظیم الشان نعمت ہمارے آباو اجداد کی قربانیوں سے سینچے ہوئے اس چمن کی حقیقی معنوں میں قدر کریں۔14

اگست جشن آزادی ضرور منائیں لیکن موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر یاون ویلنگ کرکے نہیں جھنڈے اتنے ہی خرید کر لائیں جن جھنڈوں کا احترام اور حفاظت کر سکیں کیونکہ اسی سبز ہلالی پرچم میں وطن عزیز کے جانثار شہیدوں کے لاشے آتے ہیں۔ جشن آزادی کے دن
ہمیں اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو کے کئی سالوں سے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اللہ تبارک وتعالی ملک پاکستان کوتاقیامت سلامتی اور استحکام عطا فرمائے اور دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے شر سے محفوظ فرمائے۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں