dreams-in-the-eyes 147

آنکھوں میں بسے خواب


واقعات کوبیان کرتے ہوئے باباکی آنکھیں کبھی غصہ سے سرخ اورکبھی اپنے پیاروں کی یادمیں پرنم ہوجاتیں۔وہ کہہ رہے تھے کہ جب پاکستان توہم نے ہجرت کے لیے رختِ سفرباندھا تو قدم قدم پرقیامت کاسماں تھا۔ہم امرتسرکے قریب ایک گاؤں میں رہتے تھے۔

تقسیم کے بعد گاؤں والوں نے متفقہ فیصلہ کیاکہ ہمیں آزادفصاؤں میں سانس لیناچاہئے اوراپنی بقیہ زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئے۔گاؤں سے روانہ ہوتے وقت ہمارے قافلے میں شیرخوار بچے،جوان مرد،عورتیں اوربوڑھے افرادشریک تھے۔

ہم نے رات کے اندھیرے میں نکلنے کافیصلہ کیاتاکہ ہندوؤں اورسکھوں کی نظروں سے بچ کرنکل جائیں۔ہم نے ضرورت کے مطابق سامان باندھ لیا اور مویشی وغیرہ بھی ساتھ لے لیے۔ہمارے بڑوں کاکہنا تھا کہ جتنا کچھ بچاکرلے جائیں گے اسی کوغنیمت کوجانیں اورصبح ہونے سے پہلے سٹیشن پہنچ جائیں تاکہ پاکستان جانے والی پہلی گاڑی میں جگہ مل جائے۔

اگرپہلی گاڑی میں جگہ نہ ملی توفسادات کی آگ ہمیں ادھرہی جلاکرراکھ کر ڈالے گی۔ہم نے سامان بیل گاڑیوں پرلادااوراللہ کانام لے کر چل پڑے

ہرشخص اپنی آنکھوں میں ہزاروں خواب لئے سفرطے کررہاتھا۔ گاؤں سے نکلتے ہی ہم نے مختلف ٹولیاں بنالیں تاکہ ایک ایک کرکے نکل جائیں۔ ہمارے گاؤں کے قریب ہی ہندواکثریت کی ایک بستی تھی بڑامسئلہ یہ تھاکہ ہمیں سٹیشن جانے کے لئے ہندوؤں کی اس بستی والے راستے سے جاناپڑتاتھاا س کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔اسی لئے ہم نے رات کے اندھیرے اورمختلف ٹولیوں میں جانے کاسوچا۔

ہماری ٹولی میں بیس مرد،پندرہ عورتیں اوراتنے ہی بچے تھے۔ہم اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے تھوڑی دیربعدہم لوگ بستی کی نہرکے قریب پہنچ چکے تھے۔نہرکے کنارے لگے درختوں کی وجہ سے ہندوؤں کی بستی ہم سے اوجھل تھی۔جونہی ہم لکڑی کے تختوں سے بنی پل پرپہنچے توسامنے کا منظر دیکھ کرہمارے سانس رک گئے۔ پل کے اگلے سرے پر آگ لگناشروع ہوگئی۔

ہمیں یقین ہوگیاکہ ہندویہاں پہنچ چکے ہیں۔اگرسارے پل کو آگ لگ جاتی توہمارے لیے آگے جاناناممکن ہوجاتا۔میں اورمیرے تین ساتھی آگے بڑھے ہم نے اپنے سامان سے بالٹیاں نکالیں اور نہر سے پانی بھربھرکے آگ پرڈالناشروع کردیا۔

خداکاشکرہے کہ ہم نے بروقت آگ بجھانادی اورنہر پارکرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہندوؤں کی بستی میں چندمسلمانوں کے گھربھی تھے وہ ہمارے رشتہ دارتھے ان میں ایک گھررحیم بخش کابھی تھا۔ہمارے پلان میں وہ بھی شامل تھا۔

ہماراپلان یہ تھاکہ جب ہم ہجرت کریں گے توانہیں بھی ساتھ لے چلیں گے۔اب ہمارامشن رحیم بخش اوران کے گھروالوں کو بچا کر سفر میں شریک کرناتھا۔
ہماری ہجرت کی خبرہندوبلوائیوں کوہوچکی تھی۔انہوں نے ہمارے خالی گھروں کو آگ لگادی تھی جس کاہمیں بے حدافسوس ہوا۔ہم دس آدمی چھوٹے موٹے ہتھیار لے کر رحیم بخش کے گھرکی طرف روانہ ہوگئے۔باقی لوگوں کوہم نے سفرجاری رکھنے کاکہا۔

ہم اندھیرے میں چھپتے چھپاتے بھائی رحیم بخش کے گھرپہنچے توان کاگھرصحیح سلامت دیکھ کربے حدخوشی ہوئی۔ ان کے گھرکادروازہ غیر متوقع طور پر کھلا ہوا تھا شاید وہ تیاری کرکے ہماری انتظارمیں تھے ہم نے دروازے پر دستک دی۔

اندرسے کوئی جواب نہ پاکرہم اندرداخل ہوگئے۔تاکہ جواب نہ ملنے کا سبب معلوم ہو۔میں نے لالٹین جلائی اورگھرکے صحن میں داخل ہوگیا۔وہاں کاتومنظرہی کچھ اورتھا،یوں لگاجیسے ابھی قیامت یہاں سے گزری ہو۔رحیم بخش کاپوراگھرمتقل گاہ کامنظر پیش کررہاتھا۔صحن میں بھائی رحیم بخش،ان کی بیوی اوربیٹی کی خون آلودلاش پڑی تھی۔

جب ہم اندر کمروں میں داخل ہوئے تووہاں کامنظردیکھ کرہماری چیخیں نکل گئیں۔ظالم درندوں نے بھائی رحیم بخش کے بوڑھے باپ کاسرتن سے جدا کر دیاتھااورساتھ ہی ان کے جوان بیٹے کی ذبح شدہ لاش پڑی تھی۔یہ منظرہمارے لیے ناقابل برداشت تھا۔

پہلے توہم نے اپنی چادروں سے بھائی رحیم بخش کی بیوی اوربیٹی کی لاش کوڈھانپااوربقیہ لاشوں کوبھی اٹھاکر بیل گاڑی میں ڈال دیا۔ہم روتے ہوئے گھرسے نکل رہے تھے کہ کسی بچے کے رونے کی آواز آنے لگی میں دوڑکراس آوازکی طرف لپکاتوکیادیکھتاہوں کہ چارپائی کے ساتھ بندھے کپڑے کے جھولے میں چارپانچ ماہ کابچہ رورہاتھا۔

یہ بچہ شایدظالموں کی نظروں سے اوجھل ہونے کی وجہ سے بچ گیا۔ بچے کودیکھ کر میں فرطِ جذبات سے دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ میں نے جھٹ سے بچے کواٹھاکرسینے سے لگالیا

ہماراارادہ تھاکہ قافلے میں پہنچ کر ان شہیدوں کی نمازِجنازہ اداکرکے کفن دفن کا بندوبست کریں گے۔ لیکن جب ہم ایک گھنٹہ بعد قافلے میں شامل ہوئے تووہاں بھی دل سوز خبریں سننے کوملیں۔انہوں نے بتایاکہ آپ کے جانے کے بعد ہم ہندوؤں کی بستی سے توبچ بچاکے آگے نکل گئے۔

مگران کمینوں کوہمارے نکلنے کی خبرنکلی تووہ ہماراپیچھاکرتے ہوئے یہاں تک آ پہنچے اورقافلے پرحملہ کردیا۔وہ سب تلواروں،کرپانوں اوربندوقوں سے مسلح تھے انہوں نے چاروں طرف سے قافلے کوگھیرلیااورقتل وغارت شروع کردی۔ہمارے جوان نہتے تھے۔

کب تک مقابلہ کرتے۔دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں کوشہیدکردیاگیا۔اوربہت سارامال بھی لوٹ لیا۔کچھ جوانوں نے ہمت کرکے بلوائیوں سے تلواریں چھین کرحملہ کرکے کئی بلوائیوں پرڈھیرکردیا۔ جب مرنے والے بلوائیوں کی تعدادبڑھنے لگی توباقیوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی۔قافلے والے ہمارے بیل گاڑیوں میں بھائی رحیم بخش اوران کے گھروالوں کی لاشیں دیکھ ساری صورت حال سمجھ گئے۔
باباجی اپنے آنسوپونچھتے ہوئے بتارہے تھے کہ ہم ان لاشوں کوکبھی بھی بے گوروکفن چھوڑکرنہ آتے اگرہمیں یہ خطرہ نہ ہوتاکہ بلوائی دوبارہ حملہ کردیں گے۔

کیونکہ اتنی ساری لاشوں کودفناناجان جوکھوں کاکام تھا۔رات کی تاریکی میں ہم نے آہوں اورسسکیوں کے ساتھ اپنے عزیزوں کواللہ کے حوالے کرکے سٹیشن کارخ کیا۔اس لٹے پٹے قافلے کے کتنے مسافر سر سلامت لے کراس پاک سرزمین تک پہنچے یہ داستان بھی لہوکے آنسورلانے والی ہے۔
باباجی تقسیم ہندکے دردناک واقعات سناکربچوں کی طرح بلک بلک کررونے لگے۔جب وہ کچھ سنبھلے تومیں نے پوچھاآپ پہلے تو اتناکبھی نہیں روئے تھے۔

باباجی نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا۔”بیٹا!ہم پاکستان میں اسلام اورآزادی کے جوسنہری خواب لے کرپہنچے تھے ہمیں کیامعلوم تھاکہ وہ خواب آنکھوں میں ہی بسے رہیں گے۔

ان کی تعبیرکبھی نہیں ملے گی۔پاکستان میں آج اغیارکی حکومت،نظریاتی سرحدوں کی ادھوری حفاظت،ملک میں پھیلی خون آشام دہشت گردی،کشمیرکی غلامی،مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے کیاہمارے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہے ……بالکل نہیں۔ہمارے خواب ادھورے ہیں بیٹا……ہم صرف نیندوں میں انہیں دیکھ سکتے ہیں ……جب آنکھ کھلتی ہے توسب کچھ ختم ہوجاتاہے

Adeel Ellahabadi
Author: Adeel Ellahabadi

عدیل الرحمن فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ , سب نیوز کے ساتھ بطور سوشل میڈیا کنٹینٹ ایڈیٹر منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ: EllahAbadi @کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں