jhot bolne k nuksan 94

‏معاشرے میں جھوٹ کے عناصر

دنیا کی یہ زندگی عارضی وفانی ہے ، روزہ مرہ زندگی میں ہم اپنے پیاروں سمیت بہت سے افراد کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھتے ہیں اور بسا اوقات ہم خود ان کو سپرد خاک کرتے ہیں۔ مگراس کے باوجو ہم اپنے اعمال و افعال پر توجہ نہیں دیتے۔

عصر حاضر میں جھوٹ ہماری معاشرتی زندگی کا ایک لازم جزو بن کررہ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰﷻ اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کے نزدیک جھوٹ معاشرے کی سب سے بڑی برائی اور گناہ کبیرہ ہے۔ رسول کریم ﷺکے دور میں ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں جنہیں میں چھوڑ نہیں سکتا آپ مجھے فرمائیں کہ میں کوئی ایک برائی چھوڑ دوں تو وہ میں چھوڑ دوں گا۔

آپ نے اُس شخص سے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو اُس شخص نے وعدہ کر لیا اور جھوٹ بولنا چھوڑدیا تو اِس کے جھوٹ بولنے کے چھوڑنے کے سبب اُس کی تمام برائیاں چُھٹ گئیں۔مکرمی!اکثر دیکھا گیا ہے کہ روز مرہ معمولات میں ہم جھوٹ کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتے ۔

یہاں تک کہ بیشتر ایسے مواقع بھی آتے ہیں ،کہ جہاں سچ بولنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہوتی ،اور ہم عادتاً وہاں بھی جھوٹ بولنے سے گریز نہیں کرتے، بلکہ آج کل دروازے پر دستک دینے والے کو نہ ملنے کی خاطر یہ کہہ کر کہ ابو! گھر پر نہیں ہیں۔

خود اپنے گھر میں ہی اپنے بچوں کو جھوٹ بولنے کی تربیت دینے لگے ہیں ،اور یہ پیغام نسل نو کو اس غیر محسوس طریقہ سے منتقل کیا جاتا ہےکہ پیغام دینے اور وصول کرنے والے دونوں کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے کہ جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔اسی طرح آج کل موبائل فون پر بھی جھوٹ عام ہے ،خاص طور پر آپ ہوتے کہیں اور ہیں، اور اکثر اوقات کال پرمخاطب کو اس سے متضاد کیفیت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

جھوٹ تو ہرحال میں گناہ ہے ،مگر یہاں ہم گھر والوں اور بالخصوص بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہوئے ،یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اگلی نسل میں جھوٹ جیسے گناہ کبیرہ کو منتقل کرتے ہوئے اور دیگر اہل خانہ کو جھوٹ کی ترغیب دیتے ہوئے دراصل ہم گناہ کبیرہ کے ساتھ ساتھ گناہ جاریہ کے بھی مرتکب ہورہے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی سے جھوٹ کا مرض نکال پھینکیں

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں