pollution 186

ماحولیاتی آلودگی اور ہم

پاکستان میں دہشت گردی کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔خاص جگہ جہاں ایک حیاتیات کی زندگی کو اپنا ماحول کہا جاتا ہے۔ ماحول کا مطلب پودوں ، جانوروں ، انسانوں ، سورج کی روشنی ، پانی اور ہوا جو ہمارے آس پاس موجود ہے۔پودے اور جانور ماحول کے زندہ اجزاء ہیں۔ سورج کی روشنی ، مٹی ، پانی اور ہوا ماحول کے غیر جاندار اجزاء ہیں۔

آلودگی کا باعث بننے والے مادے تین طرح کے ہیں یہ فضائی آلودگی ، آبی آلودگی اور زمینی آلودگی ہیں ۔آپ نے گاڑیوں اور کارخانوں سے دھواں خارج ہوتے دیکھا ہوگا۔ دھوئیں میں بہت سے زہریلے مادے موجود ہیں۔ دھواں ہوا کو آلودہ کرتا ہے۔

بھٹوں اور گھروں میں ایندھن جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے جو ہوا کو آلودہ کرتی ہے۔ جنگلات میں لگی آگ بھی فضائی آلودگی کا سبب بنتی ہے۔ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں آلودگی سے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ پانی کو کس طرح آلودہ کیا جارہا ہے؟ گندے نالے ، فیکٹریوں کے فضلہ ، کیڑے مار دوا اور کھاد وغیرہ پانی کو آلودہ کررہے ہیں۔ آئل ٹینکروں اور پیٹرولیم ریفائنریز سے تیل کی صفائی بھی پانی کو آلودہ کررہی ہے۔
مکانات اور شہروں کا کچرا زمین پر بکھرے ہوئے ہے۔ کوڑے کے ٹھکانے لگانے کے لئے کوئی مناسب انتظامات نہیں ہیں۔
بعض اوقات لوگ زمین پر کچرا پھینکتے وقت خیال نہیں رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ سفر کے دوران اپنی گاڑیوں کے باہر کچرا پھینک دیتے ہیں۔اس طرح ، شہر اور دیہات صاف ستھرا نہیں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیڑے مار دواؤں اور کھادوں میں کیمیائی مادے ہوتے ہیں۔
جوطویل عرصے تک مٹی میں رہتے ہیں اور زمین کی آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ فیکٹریوں کے زرعی اور زہریلے مادے بھی آلودگی کی وجہ ہیں۔زندگی پر آلودگی کے اثراتآلودہ پانی میں موجود جراثیم بیماریوں کا سبب ہیں۔فیکٹری میں موجود زہریلا مادے پانی اور زمینی ماحول کو آلودہ کرتے ہیں
سیوریج میں موجود بیکٹریا پانی میں موجود تحلیل آکسیجن کا زیادہ تر استعمال کرتے ہیں۔

آبی جانور جیسے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مچھلی مر جاتی ہے۔آلودگی جیسے آلودگی والی ہوا میں کیمیکل ، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسیں گلے جلد اور آنکھوں کی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اسموگ میں موجود آلودگی والی گیسیں پھیپھڑوں کی بیماریوں اور الرجی کا باعث بنتی ہیں۔زہریلے مادے اور گیسیں کھلے کچرے کے گندگی سے پیدا ہوتی ہیں۔

یہ مادے ہوا اور پانی کی آلودگی کا باعث بنتے ہیں ۔اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے اردگرد ماحول کو صاف رکھیں پلاسٹک بیگ کا استعمال نہ کریں اپنے گھروں، سبزہ زاروں اسکولوں اور دوسرے مقامات پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں ۔

ماحول صاف رکھنے کیلئے حکومت نے درخت لگاو آگاہی مہم شروع کی ہوئی ہے اور ماشاءاللہ اس مہم میں بچے بوڑھے جوان خوتین بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جس کی بدولت پاکستان میں اب تک لاکھوں کروڑوں درخت لگ چکے ہیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت ناک پر ماسک پہن کر گھر سے نکلا جائے اور اپنی صحت کی حفاظت کی جائے اس طرح ہم بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں ماحول کو صاف رکھنا ہی اچھی صحت کا ضامن ہے

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں