inaugural session of the Pakistan-Afghanistan Bilateral Dialogue Conference 76

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نےریجنل پیس انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس بعنوان پاکستان-افغانستان دو طرفہ مذاکرات کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج اس اہم موضوع پر مجھے اظہار خیال کا موقع مل رہا ہے۔افغانستان کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور ہم جامع مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی وکالت کر رہے ہیں۔ افغانستان کے سفیر نے ابھی اپنے خطاب میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہا میں ان کا شکر گزار ہوں۔

ہم ان کی اس بات سے پوری طرح متفق ہیں کہ تشدد اور مفاہمت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔قیام امن کیلئے پر تشدد کارروائیوں کا سدباب کرنا ہو گا۔پاکستان، پرتشدد واقعات میں کمی لا کر سیز فائر کی طرف بڑھنے کی بات کرتا آیا ہے۔سفیر صاحب نے حال ہی میں منعقد ہونیوالی علماء کانفرنس کا حوالہ دیا جس میں پاکستان اور افغانستان کے علماء شریک ہوئے۔

اس علماء کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں مذاکرات کی حمایت اور تشدد کی مذمت کی گئی۔مجھے خوشی ہے کہ افغانستان کے سفیر نے پاکستان اور افغانستان کے مابین “ایپیپس میکنزم” کی افادیت کو تسلیم کیا۔”ایپیپس میکانزم “پر ہم افغانستان کے ساتھ ہر باہمی مسئلے پر تبادلہ ء خیال کر سکتے ہیں۔افغان سلامتی کے مشیر کے حالیہ بیان سے مجھے مایوسی ہوئی۔

ایسے بیانات امن کاوشوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ دنیا پاکستان کو امن کاوشوں میں معاون کے طور پر دیکھتی ہے۔پاکستان نے افغان امن عمل میں تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا۔نیویارک میں جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر میرا بہت سے امریکی کانگریس کے نمائندوں سے رابطہ ہوا-ان کا رویہ پہلے سے مختلف تھا۔سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ ہم آج پاکستان کو مسائل کا حصہ نہیں بلکہ مسائل کے حل کا حصہ سمجھتے ہیں۔امن ہر ایک کی خواہش ہے آج کا افغانستان بیس سال پہلے والا نہیں۔

جب میں اپنی پارلیمنٹ میں خواتین پارلیمنٹیرینز کو متحرک دیکھتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ہم خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کر سکتے ہیں۔میں اسلامی ریاست کے نمائندہ کے طور پر کہتا ہوں کہ خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے۔افغانستان کی موجودہ صورتحال میں، امن کا ایک نادر موقع موجود ہے۔افغان قیادت کو اس نادر موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جامع سیاسی حل کا راستہ ہموار کرنا ہو گا۔

وزیر اعظم عمران خان اور میں ہمیشہ اس بات کا پرچار کرتے آ رہے ہیں کہ افغان قضیے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو طالبان خان کہا گیا لیکن آج دنیا ہمارے موقف کو سراہ رہی ہے۔الزام تراشی بہت آسان ہے لیکن یہ کسی فریق کو فائدہ نہیں دے سکتی۔

جب بھی میری وزیر خارجہ حنیف آتمر سے ملاقات اور گفتگو ہوئی میں نے انہیں انتہائی سنجیدہ اور سلجھا ہوا پایا۔اب وقت ہے کہ ہم الزام تراشیوں سے باہر نکلیں۔میرے نزدیک امن کے راستے کی بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہے۔ہمیں ماضی سے نکل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ہم کہتے ہیں کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے۔افغانستان میں قیام امن سے پاکستان علاقائی روابط، کاسا 1000، ٹاپی پائیپ لائن جیسے منصوبوں سے مستفید ہو سکے گا۔پاکستان کا مقصد افغانستان میں امن کا قیام ہے۔

ہم افغان قیادت کے مابین مفاہمت کی بات کرتے ہیں۔یورپ نے دو جنگ عظیم دیکھیں اور آج وہ یورپی یونین کے تحت مل کر تجارت کر رہے ہیں۔گذشتہ بیس سالوں میں افغانستان میں کشت و خون رہا – عدم استحکام سے کیا حاصل ہوا۔امریکہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو 11 ستمبر تک افغانستان سے نکال لیں گے۔50 فیصد افواج اب تک نکالی جا چکی ہیں۔

اب صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو رہی ہے۔میرے نزدیک دوحہ میں ہونیوالا امریکہ طالبان امن معاہدہ، امن کی جانب ایک اہم اقدام تھا۔فریقین کو مزاکرات کی میز پر لانے کا کریڈٹ پاکستان کو دیا جانا چاہیے۔ بین الافغان مذاکرات کا آغاز بھی ایک اہم مثبت اقدام ہے۔مذاکرات کے قواعد و ضوابط پر اتفاق بھی ایک مثبت قدم تھا۔ہمیں پرتشدد واقعات میں اضافے پر تشویش ہے۔مذاکرات میں جب تعطل آتا ہے تو یہ ہمارے لیے بھی تشویش کا باعث ہوتا ہے۔

اگر خدانخواستہ افغانستان میں انارکی پھیلتی ہے تو کیا یہ ہمارے لیے تشویش کا باعث نہیں ہے؟ یقیناً ہے۔ہم گذشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔اگر ان کی تعداد بڑھتی ہے تو کیا یہ ہمارے لیے تشویش کا باعث نہیں ہو گی؟اگر ہم آج ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گے تو ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

پاکستان، افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔کوئی فریق ہمارا فیورٹ نہیں ہے ہم نے پاکستان میں افغانستان سے ہر دھڑے کے لوگوں کو بلایا ہے۔اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا نظریہ متروک ہو چکا ہے۔آج پاکستان “جیو اکنامک” ترجیح کی بات کر رہا ہے۔ہمیں اقتصادی استحکام کی ضرورت ہے۔اور اقتصادی استحکام، خطے میں امن کے بغیر ممکن نہیں۔

ہم تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے زریعے اپنی معیشت میں بہتری چاہتے ہیں۔روابط کے فروغ کے لئے خطے میں امن درکار ہو گا۔افغانستان کا فیصلہ افغان قیادت نے کرنا ہے۔ہم افغانستان کی تعمیر نو میں ان کا ساتھ دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ہم افغان مہاجرین کی پروقار وطن واپسی کے متمنی ہیں۔افغانستان کا امن، مشترکہ ذمہ داری ہے کسی بھی ناکامی یا غلطی کی ذمہ داری پاکستان پر نہ ڈالی جائے۔

ہم خلوص نیت کے ساتھ عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کیلئے کوشاں ہیں۔پاکستان کو موردالزام ٹھیرانے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔افراد اہم ہوتے ہیں اور قومیں کہیں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔پاکستان،امریکہ، افغانستان اور خطے کے ممالک کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف شراکت دار بننے کیلئے تیار ہے۔

ہم بانی ء پاکستان حضرت محمد علی جناح رح کی اقدار کے پاسدار ہیں۔میں اتنا کہوں گا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے ایسی قیادت کو سامنے لائیے جسے افغان عوام کا اعتماد حاصل ہو۔میں نے ابھی کچھ روز قبل پاکستان افغانستان چین سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کی۔اس سے قبل استنبول میں، ترکی – افغانستان – پاکستان سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان کا نکتہ نظر پیش کرنے کا موقع ملا۔

میری 18 جون کو ترک قیادت سے ملاقات ہو گی اس حوالے سے مزید تبادلہ ء خیال کا موقع ملے گا۔اس بدلتی ہوئی صورتحال میں تمام فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اگر آپ اپنی بات پر بضد رہیں گے اور طالبان اپنی بات پر تو افغانستان اور خطے کے مستقبل کا کیا ہو گا۔ہمیں اور آپ کو اس پر مل کر سوچنا ہو گا۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں