social media 86

سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روک دیا گیا

اسلام آباد: سرکاری معلومات اور دستاویزات کے لیک ہونے سے روکنے کے لیے حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔25 اگست کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم حکومت کی اجازت کے علاوہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں حصہ نہیں لے سکتا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہدایات کا مقصد کسی حکومتی ادارے کی جانب سے سوشل میڈیا کے کسی بھی تعمیری اور مثبت استعمال کی حوصلہ شکنی نہیں ہے بلکہ لوگوں کو حکومتی پالیسی ، سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے تجاویز اور ان کی شکایات کے حل کے لیے رائے طلب کی جا سکے۔نوٹیفکیشن میں سرکاری ملازمین کو گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز ، 1964 کے تحت تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں ، جن کی تعمیل کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سمیت مختلف میڈیا فورمز میں سرکاری ملازمین کی شرکت کو کنٹرول کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ قواعد کے قاعدہ 18 میں سرکاری ملازم کسی سرکاری ملازم یا نجی شخص یا پریس کے ساتھ سرکاری معلومات یا دستاویزات کا اشتراک کرنے سے روکتا ہے۔نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک یا زیادہ ہدایات کی خلاف ورزی بدانتظامی کے مترادف ہوگی اور سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت نااہل سرکاری ملازم کے خلاف تادیبی کارروائی کا باعث بنے گی۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں