Hazrat Khawaja Khoda Bakhsh 231

حضرت خواجہ خدا بخش

سابق ریاست بہاولپورمیں جو جلیل القدر اولیاء کرام آسودہ خاک ہیں ان میں سلسلہ چشتیہ کے روحانی پیشوا حضرت خواجہ خدا بخش رحمتہ اللہ علیہ کو ارفع مقام حاصل ہے۔آپ عالم با عمل،عظیم مفسر و محدث اعلیٰ مرتبت مدرس اور ولی کشف و کرامات تھے۔آپ کا مزار خیر پور ٹامیوالی میں مرجع خلائق ہے

آپ 1150ہجری میں تلمبہ کے مقام پر مولانا قاضی جان محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔جبکہ محمد الیاس قیصر نے اپنی کتاب ”خیرالبلاد“ صفحہ 12مطبوعہ قصرالادب خیر پور ٹامیوالی میں آپ کا سن ولادت1168ہجری لکھا ہے۔آپ کے سن ولادت کی طرح نسل کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

اولیائے بہاولپور صفحہ168میں ”احوال آثار“کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپ قریشی النسل سے تھے۔آپ کی والدہ کا تعلق قوم ملنہاس سے تھا اس لئے آپ کا مادری سلسلہ قوم ملنہاس سے ملتا ہے لیکن والد کی طرف سے آپ قریشی نسب تھے۔آپ کے والد ماجد مولانا جان محمد نیک پرہیز گار اور عالم با عمل تھے۔

ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والد سے حاصل کی بعد ازاں مزید تحصیل علم کیلئے دہلی کے مدرسہ رحیمیہ میں تشریف لے گئے وہاں حضرت شاہ ولی اللہ کے آگے زانوائے تلمذ تہہ کیا۔آپ کی ذہانت اور شوق کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے ہم سبق طلباء سے بہت آگے رہتے تھے کسی طالب علم کیلئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ آپ کے ساتھ سبق یاد کرسکے۔

آپ نے کم عمری میں فقہ حدیث،منطق،تفسیر اور دیگر علوم میں کافی مہارت حاصل کر لی جوان ہونے سے قبل ہی علم و معرفت کے تاجدار بن گئے۔علوم معقول و منقول کی تکمیل کے بعد واپس اپنے گھر تلمبہ تشریف لے آئے اور والد کی حیات تک وہیں رہے۔اس دوران آپ کے دل میں کسی کامل بزرگ سے فیض حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔

رفتہ رفتہ اس خواہش نے بڑی شدت سے مرشد کی تلا ش کیلئے مجبور کر دیااور پیر کامل کی جستجو نے بے قراری کی صورت اختیار کر لی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ملتان میں عظیم روحانی پیشوا حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی کا چشمہ فیض جاری رہتا تھا خواجہ خدا بخش کو ایک رات میں حافظ جمال اللہ کی زیارت نصیب ہوئی آپ جب نیند سے بیدا ر ہوئے تو آپ پر روح پرور خوشی و مسرت کی ایک عجیب کیفیت طاری تھی اور آپ یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
یار درخانہ و من گرد جہاں مے گردم
آپ درکوزہ و من تشنہ لباں مے گردم
آپ اسی روز ملتان روانہ ہو گئے راستے میں معلوم ہوا کہ حافظ جمال اللہ اپنے مرشد خواجہ نور محمد مہاروی کے ہمراہ ان کے مرشد شاہ فخرالدین کے پاس دہلی گئے ہو ئے ہیں اس لئے ان سے ملاقات نہ ہو سکی اور واپس آگئے۔
صوفیائے پنجاب کے مصنف مولانا اعجاز الحق قدوسی کے مطابق دہلی میں ایک دن خواجہ نور محمد مہاروی اور ان کے شیخ طریقت شاہ فخر جہاں دہلوی کے سامنے یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ ملتان صدیوں سے حضرت غوث بہا ؤ الدین زکریا سہروردی کے زیر تسلط ہے اور آپ وہاں سلسلہ سہروردیہ کے علاوہ کسی اور روحانی سلسلہ کے ولی اللہ کا عمل دخل گوارا نہیں کرتے اگر کوئی کوشش کرے تو اسے مرتبہ ولایت سے خالی کر دیا جاتاہے۔

بحث کے اختتام پر خواجہ فخر جہاں نے فرمایا!میاں نور محمد جو کچھ تم نے یا میں نے کہا درست ہے لیکن تم کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ اب ملتان ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے اور یہ فرض عائدہوتا ہے کہ اب ہم نہایت سنجیدگی سے اپنا کام شروع کردیں اور اس کا نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے۔خواجہ نور محمد نے اپنے پیرو مرشد سے پوچھا کہ حضرت یہ کام کس طرح شروع کیا جائے۔

شاہ فخر الدین نے جواباً فرمایا کہ تم اپنے مریدوں میں سے کسی کو ملتان بھیج دو اور اسے ہدایت کردو کہ شیخ بہاؤ الدین زکریا کی خانقاہ میں جائے اور وہاں لوگوں کو سلسلہ چشتیہ میں بیعت کرے۔خواجہ نور محمد نے عرض کیا کہ میں تو آپ کے حکم کا پابند ہوں جس طرح آپ نے فرمایا ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔شاہ فخرالدین نے فرمایا کہ حافظ جمال اللہ یہ کام سر انجام دے سکتا ہے۔

خواجہ نور محمد دہلی سے واپس مہار پہنچے اور حافظ جمال اللہ سے کہا کہ تم جس کام کے اہل ہو میں وہ تمہارے وسپرد کرتا ہوں اورمجھے یقین ہے کہ تم آئندہ مایوس نہیں کرو گے چنانچہ حافظ صاحب تعمیل ارشاد میں حضرت زکریا کے مزار پر پہنچے۔
ادھر خواجہ خدا بخش کو معلوم ہوا کہ حافظ محمد جمال اللہ صاحب حضرت زکریا کے مزار پر تشریف فرما ہیں تو وہ بھی اپنا گوہر مقصود حاصل کرنے کیلئے مزار پر پہنچ گئے۔وہاں زائرین کی کافی تعداد موجود تھی اور حافظ محمد جمال اللہ صاحب نے اس ہجوم کو مخاطب کیا کہ ”حضرات میں آج ہی تمہارے پاس ملتان آیا ہوں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس خانقاہ میں لوگوں کو سلسلہ چشتیہ میں بیعت کروں،تم میرے پاس آؤ تاکہ میں اپنا فرض انجام دوں۔

یہ اعلان سنتے ہی خانقاہ میں ایک سناٹا طاری ہو گیا اور کسی میں حافظ جمال اللہ صاحب کے پاس جانے کی ہمت نہ ہوئی۔اس دوران ہجوم میں سے ایک شخص الگ ہو کر حافظ صاحب کےپاس پہنچا اور عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے ہاتھوں سلسلہ چشتیہ میں بیعت ہونا چاہتا ہوں حافظ صاحب نے پوچھا تمہارا نام کیاہے اور کہاں کے رہنے والے ہو اس شخص نے کہا میرا نام خدا بخش ہے ویسے لوگ مجھے مولوی خدا بخش کہتے ہیں اور میں یہیں ملتان کا رہنے والا ہوں۔

چنانچہ حافظ محمد جمال اللہ صاحب نے خواجہ خدا بخش کا ہاتھ اپنی ہاتھ میں لے کر فرمایا ”کہو میں چشتیہ سلسلے میں بیعت ہونا چاہتا ہوں“خواجہ خدا بخش نے یہی دہرایا۔اس طرح خواجہ خدا بخش کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا کہ وہ خانقاہ بہاؤالدین زکریا میں سلسلہ چشتیہ کے پہلے مرید قرار پائے۔
پیرو مرشد نے بیعت کے بعد آپ کو روحانی فیوض سے مالا مال کیا اور تمام مدارج سلوک طے کراکے مرتبہ کمال تک پہنچایا اور آپ کو غریب نواز کا لقب اور محبوب اللہ کا عرف عطا کیا اور سلسلہ چشتیہ میں اجازت خلافت سے نوازا اور حکم دیا کہ خانقاہ بہاؤالدین زکریا کے سامنے بیٹھ کر سلسلہ چشتیہ کے حق میں
بیعت لومرشد کے حکم کی تعمیل میں انہوں نے خانقاہ کے سامنے بیٹھ کرملتان میں سلسلہ چشتیہ کی تجدید کا حق ادا کیا اور یوں حافظ جمال اللہ ملتانی اور ان کے خلیفہ خواجہ خدا بخش کی بدولت ملتان میں سلسلہ سہروردیہ کے ساتھ ساتھ سلسلہ چشتیہ کا اثرورسوخ بھی قائم ہوا۔
مہر عبدالحق نے خواجہ خدا بخش کے تدریسی مشاغل کے بارے میں لکھا ہے آپ نے ملتان کی قدیم مسجد درس والی میں اپنے مرشد حافظ محمد جمال اللہ کے قائم کردہ مدرسہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور سالہا سال رشدو ہدایت کے سلسلے کو نہایت کامیابی سے چلایا اس عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں تشنگان علم یہاں

پہنچے اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق ظاہری و باطنی علم و تفضل کی دولت سے مالا مال ہو کر واپس گئے۔آپ کے درس میں بڑے بڑے جید علماء شامل ہو کر اکتساب فیض کرتے اور نہایت ہی دقیق مسائل پر آپ کے استدلال اور بحث و مباحثہ سن کر نازک اور باریک تاویلات سے آگاہی کرتے۔
ملتان پر جب سکھوں نے رنجیت سنگھ کی سرکردگی میں بار بار حملے کئے تو دوسرے علماء کے ساتھ ساتھ آپ نے بھی یہاں سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب تک آپ ملتان میں رہے تو سکھ قلعہ کا محاصرہ کرنے کے باوجود فتح نہ کرسکے اور ہزیمت کھا کر واپس ہو گئے

انوارجمالیہ کے مصنف منشی غلام حسن شہید نے لکھا ہے کہ نجومیوں کے حوالے سے یہ بات مشہور ہو گئی کہ ملتان میں ایک قطب ہے اور جب تک وہ موجود ہے اس کی زندگی میں قلعہ تسخیر نہیں کیا جا سکتا حالانکہ یہ بات حافظ محمد جمال اللہ صاحب کے بارے میں کہی گئی تھی لیکن انہوں نے خواجہ خدا بخش کو قطب قرار دیا۔خواجہ خدا بخش نے ملتان سے نقل مکانی کرکے پہلے موضع دنیا پور المعروف راوے والا میں کچھ عرصہ قیام فرمایا۔

گلشن ابرار کے مطابق حافظ محمد جمال اللہ نے چیلا واہن کے حافظ غلام حسن بھٹی کو خط لکھا کہ مولانا خدا بخش صاحب ملتان سے چلے گئے ہیں آپ ان کو اپنے مکان پر لے آئیں اور ان کے چشمہ رحمت سے سیراب ہوں یہ نامہ نامی جب آپ کی خدمت میں پہنچا تو تعمیلاً آپ ان کے پاس چلے گئے اور بہت التجا اور آرزو کے ساتھ ان کو اپنے مکان پر چیلا واہن لے آئے اور ان کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔

خواجہ خدا بخش یہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد خیر پور ٹامیوالی تشریف لے گئے اور اس مقام کواپنا مستقل مستقر بنا لیااور یہاں بھی درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہا اور سینکڑوں طالبان علوم ظاہری و باطنی آپ سے اکتساب فیض کرتے رہے۔والی ریاست بہاولپور محمد صادق خان عباسی نے آپ کے خادموں کا روزینہ مقرر کیا اور لنگر کا تمام خرچ اپنے ذمہ لیا۔درس کیلئے ایک مسجد،کنواں،مہمان سرائے اور فقراء کیلئے حجرے تعمیر کروائے۔
خواجہ خدا بخش کی روحانی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ جس زمانہ میں خیر پور جلوہ افروز تھے سکھوں نے ملتان پر حملہ کر دیا تو والئی ملتان نواب مظفر خان نے اپنے اہل و عیال کو خواجہ خدا بخش کی حفاظت میں دینے کیلئے خیر پور ٹامیوالی بھجوادیا۔
خواجہ خدا بخش زہد وعبادت اور اسو ہ رسول کی پیروی میں درجہ کمال پر فائض تھے۔آپ کے جد طریقت قبلہ عالم خواجہ نور محمد مہاروی کی وفات کے بعد نماز جنازہ پڑھانے کا وقت آیا تو صفیں ایستادہ تھیں تو آپ کی وصیت کا علان کیاگیا کہ نماز جنازہ وہ شخص پڑھائے جس سے واجب کبھی قضا نہ ہوا ہو۔

یہ وصیت سن کر جنازے میں موجود علما ء ، صلحا، بزرگان دین پیر طریقت دم بخود رہ گئے اور کسی نے بھی نماز جنازہ پڑھانے کی جرات نہ کی کافی دیر انتظار کے بعد خواجہ خدا بخش آگے بڑھے اور یہ کہتے ہوئے مصلّے پر کھڑے ہو گئے کہ فقیر نے آج تک واجب کے علاوہ بفضل خدا مستجب بھی کبھی ترک نہیں کیا اور جد طریقت قبلہ عالم نے میرا یہ راز بھی افشاء کر دیا چنانچہ آپ نے نماز جنازہ پڑھانے کی سعادت حاصل کی۔
خواجہ خدا بخش صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔

نہایت ثقہ راویوں کے مطابق آپ کے ہاتھوں متعدد
کرامات کا ظہور ہوا۔مولانا عبیداللہ ملتانی نے اپنی تصنیف سردبراں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ دریائے ستلج میں زبر دست سیلاب آیا پانی کی لہریں تیزی سے بستی درپور کی طرف رخ کر رہی تھیں جس سے بستی غرق ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔بستی کے لوگ خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر دریا سے نجات پانے کے
ہوئے۔آپ خود بنفس نفیس دریا پر تشریف لے گئے اور دریا کے کنارے مصلّے بچھا کر عبادت میں مشغول رہے اور دریا کو مخاطب ہو کر فرمایا اگر تو طاقتور ہے تو تجھ سے بھی زیادہ طاقتور خدا کی ذات ہے اگر تو کمزور ہے تو تجھ سے بھی زیادہ تر کمزور خدا کی مخلوق ہے۔خدا کی طاقت سے ڈرو اور کمزوروں پر ترس کھاؤ۔مولانا ملتانی لکھتے ہیں کہ خواجہ صاحب کی ان نکتہ آفرینی کے بعد دریا کا رُخ تبدیل ہو گیا اور بستی دریا کے تاراج سے محفوظ رہی۔
چشتیہ سلسلے کے صوفیاء کی سماع سے دلچسپی بے خشاں ہے،خواجہ صاحب کو بھی سماع سے دلچسپی تھی اور محفل سماع میں آپ پر ذوق طاری ہو تا تھا تو سن لیتے تھے لیکن فرمائش کر کے کسی کو گانے بجانے کی تکلیف نہیں دیتے تھے۔
انوا رجمالیہ کے مطابق”باوجود استہلا ئے ذوق و تعطش سماع گاہے کے راقولے وطنے سخنے نفر ممودند“ اسی طرح آپ سماع کی سریلی آواز کے حاجت مند نہ تھے۔کسی نے آپ کو سکر یا وجد کی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔
آپ کے حلیہ مبارک کے متعلق گلشن ابرار کے مصنف نے لکھا ہے کہ ”اگر کسے زیارت حضرت غوث بہاؤالدین زکریا نکردہ باشد زیارت محبوب اللہ(خواجہ خدا بخش)مشرف شود کہ فی مابین ہر دو شخص صورتاً و معنی بقدرتاً سر ممو فرق نیست“ یعنی اگر کسی شخص نے حضرت غوث بہاؤالدین زکریا کی زیارت نہ کی ہو تو وہ مولانا محبوب اللہ کو دیکھ لے کہ دونوں شیخین میں صوری اور معنوی طور پر بال برابر فرق نہیں۔
خواجہ خدا بخش صاحب خیر پور میں تقریباً انیس بیس برس تک درس و تدریس کی خدمات سر انجام دیتے رہے آخر اس دھرتی کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے والا آفتاب معرفت29محرم 1250ہجری کو دنیا کی نگاہوں سے غروب ہو گیا اور خیر پور ٹامیوالی کی سر زمین آپ کا مدفن بنی۔جبکہ مولوی عبدالشکور انصاری نے اپنی کتاب”در تعریف خواجہ خدا بخش“میں صفحہ46پر آپ کا سن وفات1251ہجری لکھا ہے۔
آپ کے بے شمار خلفاء میں سے چند مشہور خلفاء قاضی عبیداللہ ملتانی،مولانا حافظ غلام مرتضیٰ چیلا واہنی،منشی خدا بخش ملتانی،غلام حسن شہید،مولانا عظیم بخش احمد پوری،مولانا محمد موسیٰ ملتانی،مولانا خدا بخش ملتانی،قاضی محمد عیسیٰ خیر پوری،مولانا نور محمد بھنڈی والے،سید پیڑے شاہ اور مولانا محمد اسحٰق قابل ذکر ہیں۔
آپ کا سہہ روزہ سالانہ عرس حرم الحرام کو نہایت تزک و اہتشام اور عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔اس موقع پر ہر استاد الشعراء جنا ب ریاض احمد رحمانی مرحوم کی قائم کردہ ادبی تنظیم بزم ریاض رحمانی کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان سرائیکی و اردو محفل مشاعرہ منعقد ہوتی ہے۔جناب رحمانی کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے معروف شاعر و ادیب رشید عثمانی نے تاحال یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اس سالانہ مشاعرے میں ملک بھر کے نامور سرائیکی و اردو شعراء اپنا منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

Adeel Ellahabadi
Author: Adeel Ellahabadi

عدیل الرحمن فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ , سب نیوز کے ساتھ بطور سوشل میڈیا کنٹینٹ ایڈیٹر منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ: EllahAbadi @کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں