humaira column 163

کوئلوں کی دلالی

سنتے آئے تھے کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا. کبھی اس محاورے کی سمجھ نا آئی تھی. اب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے بعد بہت کچھ سمجھ آنے لگا ہے. حکومت کے آغاز سے لے کر جس طرح کے حالات پیدا کئے جاتے رہے اور بتدریج سوائے منفی پراپیگنڈہ کچھ نا کیا گیا، مقصد پاکستان ہرگز نا تھا، ذاتی مفادات کی جنگ میں پاکستان کے وسیع تر مفاد کو پسِ پشت ڈالا گیا.

اور یہ ہماری شہ سے ہو رہا تھا لیکن اسپر پردہ ڈالا گیا تھا. اب یہ سب گیمز واضح انداز میں عوام. کے سامنے ایکسپوزہو چکی ہیں. 1989 میں جنرل ضیاء کے بعد پیپلزپارٹی کی برھتی مقبولیت کو کم کرنے کے لئے آئی جے اے کے بننے سے لے کر 1993 میں اس کے تحلیل ہونے تک بھی تمام پارٹیاں متحد ہو کر رہیں اور متحد کرنے والے آئی ایس آئی والے تاکہ طاقت کا توازن برقرار رہے. پھر نوازشریف نے طاقت پکڑنا شروع کی۔

تو اسکی کرپشن کو کھلی چھوٹ دینے والے، سنٹر میں نوازشریف اور صوبے میں شہبازشریف والوں نے کبھی نا سوچا کہ اگر اندھا ریوڑیاں بانٹ رہا تو آپ ون کو ہی دیتا جارہا، مذہبی تنظیموں کو ہر دور میں حکومتوں پر پرءشر گروپ کے طور سامنے لایا جاتا رہا. کبھی کسی مذہبی جماعت نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نا کی کہ وہ تو اسلام کا امیج ہیں دنیا کے سامنے،

صرف اپنے ووٹ بینک کی خاطر انتہاپسندی کو فروغ دیتے ان جماعتوں نے اسلام اور ملت اسلامیہ کے لئے جیسے مسائل کھڑے کئے ان کاخمیازہ سب سے زیادہ پاکستان کو بھگتنا پڑا. اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب کے طور متعارف کرواتی رہیں اسلام دشمن طاقتیں اور مسلمان ممالک، بالخصوص پاکستان میں علماء پیسے لے کر وزارتوں کے لالچ میں کچھ نا کر پائے. تو ایسے علماء کے بارے کیسے ہم کہہ پائیں کہ یہ علماء ہیں.

ایک پارٹی نے ملک کے ایک بڑے صوبے کا انتظام و انصرام سنبھال لیا، دوسری نے دوسرا، باقی دو صوبے بندر بانٹ میں رہے جس کی وجہ سے ان کی ترقی لوہسِ پشت ڈال کر ملکی وحدت میں مزید چھرا گھونپا گیا. سندھ میں طاقت کو متوازن کرتے نہایت غلط انداز میں ایم کیو ایم کا قیام وقت نے ثابت کیا کہ بڑی غلطیوں میں سے ایک غلطی تھی.

جس کا خمیازہ کراچی میں دنگا فساد اور خوف وہراس کی صورت دو دہائیوں تک سارے پاکستان نے سہا. اور  جن کی پیدا کردہ غلطیاں تھکن وہ چپ چاپ پیسہ سمیٹتے اور بایر سیٹل ہو جاتے. اس سب میں کبھی کسی نے پاکستان کا سوچا؟

اور پھر ایک مرد مجاہد آیا، وہ ڈٹ کر غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتا تھا

اس نے بتایا کہ ملک کو کھوکھلا کیا جا رہا، اور ملکی سرحدوں کے ساتھ کھلواڑ ہورہا. ڈرون حملوں سے لے کر ملکی سلامتی کے معاملات پر اس سے بڑھ کر کسی کو بولتے نا دیکھا.

وہ سب جو ہمارے علماء کوکرنا چاہئے تھا اسلام. کے احیاء کے لئے، اس ایک شخص نے تن تنہا پوری دنیا کے سامنے امت محمدیہ کا مقدمہ نا صرف خوب لڑا بلکہ جیتا بھی

اور آج کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرنے والے، پھر سے اپنے کالے دھن سمیت آن کھڑے ہوئے. اب کی بار اندر سے سب بک جانے کے قابل کچرے کو کچرا کنڈی سے چن لیا اور گر سے اسی گھناؤنے کاروبار کا آغاز. بولیان لگنا شروغ ہو گیین اور انسان گدھون گھوڑوں کی طرح بکنے لگے.

اس سب کھیل میں امریکہ کی طرف سے انوالومنٹ کے واضح ثبوت تک پیش کردیئے.

 ملاقاتوں کی تفصیلات کے مطابق ذیل میں دیکھئے کس انداز مین کٹھ پتلیوں کی طرح ہمارے سیاستدان اور سحافی حضرات اغیار کے ہاتھوں کھلونا بنے.

۔12جنوری  کو امریکی جنرل کونسلر نے    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ کراچی میں ملاقات کی.

۔4فروری 2022 کو  امریکی قونصلر جنرل کراچی   مارک سٹرو نے پیپلز پارٹی رہنما سلیم مانڈوی والا سے ملاقات کی ۔24فروری کو بلاول بھٹو کے مشیر حارث گزدار اور وزیر اعلی سندھ کے مشیر نثار احمد کھوڑو سے ملاقات کی 

۔15 فروری کو ایم پی اے رانا محمود الحسن ایم پی اے عطاءالرحمن  ایم پی اے شاہد الحسن، رانا ثاقب اور سابق ایم پی اے رانا طاہر کے ساتھ ملاقات کی۔

۔ 16فروری 2022 کو پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی  نور عالم خان نے امریکی سفارت کار   پیٹر جوزف میںکشیری سے ملاقات کی.

۔7مارچ 2022 کو سابق گورنر پنجاب  اور پیپلز پارٹی رہنما مخدوم احمد محمود کے ساتھ لاہور میں ملاقات کی پیپلزپارٹی کے عبدالقادر، ممتاز علی اور پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی علیم خان کے ساتھ لاہور میں ملاقات کی.

۔8مارچ ،2022کو امریکی جنرل کونسلر نے مسلم  لیگ نون کے رہنما سمیع اللہ خان سے ملاقات کی اور اس کے ساتھ سیدہ عظمی قادری  کے ساتھ ملاقات کی

اور یوں ان سب نے یہ ثابت کیا کہ سیاست ایسا ہی ہے جیسے کوئلوں کی کان میں کام. کریں اور ہاتھ منہ کالے کئے بنا ہم یہ کاروبار نہیں کرسکتے پھر بھی روح کی پاکیزگی پر تو کام کیا جا سکتا.

اب دعا ہے کہ اس سب کے دوران بمشکل جو پاکستانی معیشت اور ملت اسلامیہ کے لئے جو خوش آئند مستقبل کی امید بندھ چلی وہ شرمندہ تعبیر ہو اور بالآخر ہم بھی ترقی کے راستے پر چل نکلیں.

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں