53

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں ریاستی رٹ کو ہر صورت قائم کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس  ہوا جس میں وفاقی وزراء، مشیر قومی سلامتی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس ائی، آئی بی اور ایف ائی اے سمیت سینئر سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔

قومی سلامتی کمیٹی کو ملکی داخلی صورتحال اور ٹی ایل پی کے احتجاج کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ شرکا نے ٹی ایل پی احتجاج  کے دوران عوام کی جان ومال کو نقصان پہنچانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے پولیس کی پیشہ وارانہ کارکردگی اور تحمل  کو خراج تحسین پیش کیا جن کے 4 اہلکار شہید اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے، کمیٹی نے اعادہ کیا کے تحمل کا مطلب ہر گز کمزوری نہ سمجھا جائے اور پولیس کو جان و مال کے تحفظ کے لیے دفاع کا حق حاصل ہے۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ ریاست پرامن احتجاج  کے حق کو تسلیم کرتی ہے تاہم ٹی ایل پی نے دانستہ طور پر سرکاری ونجی املاک کو نقصان پہنچایا اور اہلکاروں پر تشدد کیا، یہ رویہ قابل قبول نہیں اور قانون کی عملداری میں خلل ڈالنے کی مزید کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

کمیٹی نے ٹی ایل پی کی طرف سے ناموس رسالت کے غلط اور گمراہ کن استعمال کی شدید مذمت کی جس کی وجہ سے فرقہ واریت کو ہوا ملتی ہے اور ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں، ریاست آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر مذاکرات کرے گی اور کسی قسم کے غیر آئینی اور بلا جواز مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔

قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے کہا گیا کہ کسی بھی پچھلی حکومت یا وزیراعظم نے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ اور اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر اتنا کام نہیں کیا جتنا اس حکومت نے کیا، حکومت نے کامیابی سے ان ایشوز کو اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپین یونین اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کیا۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد بھی اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو رد کرنا ہے، اربوں مسلمان حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس سے محبت کرتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں تاہم کسی بھی دوسری اسلامی ریاست میں املاک اور عوام کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کے ٹی ایل پی کے ساتھ صرف آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرت کئے جائیں گے اور مزید قانون شکنی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی قسم کے ناجائز مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔ ریاست کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں