intolerance 68

عدم برداشت ایک سنگین مسئلہ

ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ برداشت کی کمی ہے عدم برداشت کی وجہ سے آئے روز مسائل جنم لیتے ہیں۔ ہمارا یہ شیوہ ہے کہ ہم سے بات برداشت نہیں ہوتی اور غصے میں بے قابو ہوکر ہمیشہ لڑائی جھگڑے پر اتر آتے ہیں یا پھر جہاں پر زور نہ چلے دانت پیستے رہ جاتے ہیں اور دل ہی دل میں کوستے رہتے ہیں یا مغلظات بکتے رہتے ہیں۔

ہماری یےعادت بن چکی ہے کے ہم دوسرے کو کہیں گے کہ اوئے غلط بات نہ کرنا مجھے سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی ۔صحیح بات تو ہر کوئی تسلیم کر لیتا ہے اسے برداشت کرنے کی کیا ضرورت اصل میں برداشت تو آپکو غلط بات ہی کرنی ہوتی ہے ۔

زرا سوچیں آپ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی تو پھر کیا فائدہ صحیح بات تو سب تسلیم کر لیتے ہیں۔غلط بات برداشت نہیں ہوتی چاہے خود جتنی مرضی غلطیاں کریں اور اپنی غلطیوں کو دوسروں پر تھوپ دیں ۔ا

رے بھائی دوسروں کی غلط بات برداشت نہیں ہوتی تو دوسرا آپ کی غلط بات برداشت کیوں کرے گا۔ آپ صبر سےتحمل سے سوچ سمجھ کر بات کر سکتے ہیں ۔اگر آپ صبر سے بات کریں گے، اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر تو آپکی بات پر اثر ہوگی لازمی آپ کے مدمقابل پر اثر کرے گی ۔

آپکے سامنے کھڑا انسان آپکے صبر اور اخلاق سے متاثر ہو گا ۔ شاید آپ کے اخلاق سے متاثر ہوکر وہ اپنی غلطی کو بھی مان لے اور آپکے کسی ممکنہ نقصان کا ازالہ ہو جائے ۔یقین جانیے آپ جتنا صبر اور اخلاق کے ساتھ بات کریں گے آپ باتوں کی تاثیر سے آپ دنیا کے دل خریدلیں گے اور آپکی دیکھا دیکھی معاشرے میں ایک حقیقی سدھار آسکتا ہے۔

زرا غور فرمائیے اگر ہمارے معاشرے کے تمام لوگ صبر اورتحمل اور اخلاقیات کا دامن مضبوطی سے تھام لیں گے تو ہمارا عدم برداشت والا مسئلہ ختم ہو جائے گا ۔ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں شرم محسوس نہیں ہوگی ۔ہم اپنی گذشتہ غلطیوں سے سیکھ کر آئندہ غلطی نہ کرنے کا سوچیں گے۔کسی کا حق نہیں ماریں گے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کریں گے۔ اپنے سے کمزور انسان پر دھونس نہیں جمائیں گے ۔

تو ہمارے معاشرے کے 80 % مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے ہم برداشت اور حوصلے کی طاقت سے مالا مال ہو جائیں گے ۔ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اپنے پاک پروردگار کا شکر بجا لائیں۔ اپنے بچوں کو بھی ہر حال میں شکر ادا کرنے کی تعلیم دیں اور بذات خود ہر اچھی بری بات کو برداشت کریں ۔

اور عزم اور حوصلے کے ساتھ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر تمام مشکلات کا حل تلاش کریں ۔مشہور محاورہ ہے صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔رب العالمین ہماری معاشرے کو سدھارنے کی ان کوششوں کو کامیاب فرمائے اور ہمارے معاشرے کو ایک یقینی ٹھہراو نصیب فرمائے آمین ۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں