today column by khbrain e paper 81

نوکری، نوکری اوربس نوکری

دوستوں یہ قصہ شاید آپ کی نظر سے کئ بار گزرا ہو لیکن میرے آج کے موضوع کے لئے سب سے پہلے آپ کو یہ پڑھوانا ضروری ہے۔تو پہلے آپ قصہ سنیں پھر باقی باتیں ہوں گی!
ہوا کچھ یوں کہ ایک لڑکے کو ایک جاب کیلئے انٹرویو پر بلایا گیا. وہاں جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کا ای میل ایڈرس کیا ہے؟
لڑکے نے جواب دیا کہ میرا ای میل نہیں ہے. تو لڑکے کو کہا گیا کہ ہم آپ کو جاب نہیں دے سکتے…
لڑکا پریشان حال باہر نکلا.. اس کے پاس کچھ رقم تھی. اچھے اور صاف ستھرے ٹماٹر خریدے اور کم بچت پر گھر گھر فروخت کر دیئے.
اسی طرح اگلے دن اور پھر اگلے دن.
یہ لڑکا پھر ایک دن ایک بہت بڑی کمپنی کا مالک بن گیا.
ایک انشورنس کمپنی کا نمائندہ حاضر ہوا اور انشورنس کروانے کی گزارش کی…
رضامندی پر ای میل ایڈریس پوچھنے پر اس انشورنس کمپنی کا نمائندہ حیران رہ گیا کہ اتنی بڑی کمپنی کے مالک کے پاس ای میل ایڈریس نہیں….
نمائندے نے کہا کہ
“سر اگر آپ کے پاس ای میل ہوتا تو آپ پھر پتا نہیں آج کتنا آگے اور کہاں سے کہاں ہوتے”
کمپنی کے مالک یعنی اس لڑکے نے آہ بھر کر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ
“ہاں اگر میرے پاس ای میل ہوتا تو آج میں ایک چھوٹی سی کمپنی میں ایک چھوٹا سا ملازم ہوتا”….
دوستوں نوکری کا رجحان ہمارے نوجوان کے دماغ میں رچ بس گیا ہے ان کی پہلی کوشش سرکاری نوکری کا حصول ہوتی ہے اس کے بعد کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی بات آتی ہے نہیں تو کسی بھی جگہ نوکر ہونا ہی ہے۔بڑے بڑے زہین اور تخلیقی زہن رکھنے والے بھی نوکری ہی ڈھونڈتے نظر آئیں گے بہت سے ایسے قابل دوست تھے جن کے بارے میں میرا گمان تھا کہ وہ آگے چل کے بہت کامیاب آدمی بنیں گےلیکن وہ اس وقت سرکاری پرائمری اسکول ٹیچر ہیں۔حالانکہ وہ بہت اچھا اور بہتر کر سکتے تھے لیکن ایک سرکاری نوکری کے چکر میں سارا مستقبل ہی جھونک دیا۔اور کہتے ہیں کہ جب میں ریٹائر ہوں گا تو پینشن اور گریجویٹی کی اچھی خاصی رقم ملے گی۔میں سوچتا رہا کہ یہ لوگ ماہانہ ساٹھ ستر ہزار سے زائد آمدنی حاصل کر سکتا تھے لیکن مستقبل میں ملنے والی گریجویٹی اور پینشن کے چکر میں پینتیس ہزار روپے ماہوار کما رہے ہیں جبکہ وہ میرے حساب سے چالیس ہزار روپے ماہانہ اضافی کما سکتے تھے ۔اگر یہ رقم وہ پچیس تیس سال کی نوکری سے ضرب دے لیں تو مستقبل میں ملنے والی پینشن اور گریجویٹی سے کہیں زیادہ ہوگی اور ساتھ ساتھ جب وہ اپنی فیلڈ کے حساب سے کام کرینگے تو ترقی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ پڑھتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں ایک نوکری کے چکر میں اپنی پسند اپنا جزبہ سب قربان کر دیتے ہیں۔کوئ نوجوان چھوٹا کاروبار کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے۔اگر سب ایسے ہی نوکری کرتے رہے تو نوکری دینے والے کیسے پیدا ہوں گے۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مرغی پالنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ کاروبار کی ابتداء کر سکیں اس بات کا اپوزیشن نے خوب مزاق بنایا دراصل اپوزیشن سمجھ ہی نہیں سکی کے محترم وزیراعظم دراصل نوجوانوں کو چھوٹے کاروبارکی ترغیب دے رہے ہیں اور آگے جل کر انہیں حکومت کی جانب سے بلا سود قرضے فراہم کئے جانےتھےتا کہ وہ کوئ اپنی دلچسپی اور اپنی مہارت کا کوئ کاروبار شروع کر سکیں کیونکہ جس شعبہ میں نوجوانوں کی مہارت ہو گی تو اسی شعبے میں دلچسپی سے ترقی کر سکیں گے اور اپنے ساتھ دو چار لوگوں کو اوربھی روزگار فراہم کر سکیں گے۔یاد رکھئے اگر آپ اہنے شوق اور جزبے کو نوکری پر فوقیت دیں گے تو ممکن ہے شروع میں وہ آمدنی آپ حاصل نہ کر پائیں جو نوکری میں مل سکتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی ابلیت، تجربہ اور سوچ بڑھتی جائے گی جو ظاہر ہے آمدنی بڑھنے کا زریعہ بھی بنے گی۔
بس دوستوں یہ جان لو کہ دنیا کو آپ سے کوئ غرض نہیں ہے اس دنیا کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ آپ کی صلاحیت ، ہنرمندی اور کچھ نیا آئڈیا اس دنیا کو کیا فائدہ دے سکتا ہے اور پھر یقیننا آپ بھی فائدہ اٹھا پائیں گے۔۔۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں