kiran naz in hijab 67

خاتون ٹی وی اینکر کا برقعہ پہن کر لائیو پروگرام، کرن ناز کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا

کراچی (خبریں ڈیلی)نجی ٹی وی چینل کی اینکر کرن ناز کا نام ٹوئٹر پر اس وقت ٹرینڈ کرنے لگا جب انہوں نے لائیو شو کے دوران حجاب پہن کر کہا کہ حجاب پہننے والی لڑکیاں کسی بھی معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔

چند روز قبل ایک پاکستانی پروفیسر پرویز ہود بھائی نے ایک ٹاک شو کے دوران حجاب کرنے والی خواتین کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاسنہ 1973 سے پڑھانا شروع کیا، اس وقت آپ کو بمشکل ایک لڑکی برقعے میں دکھائی دیتی تھی، اب تو حجاب، برقعہ عام ہو گیا ہے۔

آپ کو نارمل لڑکی تو شاز و نادر ہی ادھر نظر آتی ہے۔جب وہ کلاس میں بیٹھتے ہیں برقعے میں حجاب میں لپٹی ہوئی تو ان کی کلاس میں شمولیت بہت گھٹ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کلاس میں ہیں کے نہیں۔پروفیسر پرویز ہود بھائی کی حجابی خواتین کے متعلق اس رائے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

صارفین کو جس بات نے سب سے زیادہ ٹھیس پہنچائی وہ دراصل پرویز ہودبھائی کا یہ جملہ تھا کہ آپ کو نارمل لڑکی تو شاز و نادر ہی نظر آتی ہے۔لوگ کہہ رہے ہیں کہ حجاب کرنا یا نا کرنا خواتین کی اپنی چوائس ہوتی ہے ۔

صرف لباس کی وجہ سے آپ خواتین کی صلاحیتوں اور ذہانت کو نہیں جانچ سکتے۔پروفیسر پرویز ہود بھائی کے ان خیالات پر پاکستانی نجی چینل کی اینکر پرسن کرن ناز نے بھی ردعمل کا اظہار کیا اور لائیو شو کے دوران حجاب پہن کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ حجاب کسی بھی طرح خواتین کی صلاحیتوں میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

خواتین کی قابلیت کا ان کے کپڑے سے کیا تعلق ہے؟کرن ناز نے شو میں حجاب پہن کر حجابی خواتین کے دفاع میں بات کرتے ہوئے کہا حجاب اور برقع پہننے والی خواتین بھی بالکل اسی طرح نارمل ہوتی ہیں جیسا کہ حجاب نہ کرنے والی خواتین۔18 گولڈ میڈل حاصل کرنیو الی لڑکی بھی حجاب کرتی ہے ۔

نصرت سحر عباسی جو اب حجاب کرتی ہیں اور سندھ اسمبلی میں لوگوں کے لیے آواز بھی اٹھاتی ہیں۔ کسی طور پر بھی کوئی حجاب کرنے والی خاتون صلاحیتوں میں کسی سے کم تر نہیں ہے۔

کرن ناز کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ سراہا جارہا ہے اور لوگ حجاب کےدفاع میں سامنے آتے ہوئے برقع پہننے والی لڑکیوں کو مکمل نارمل قرار دے رہے ہیں۔مہوش بھٹی نے کہا کہ ایک عام مرد سے لے کر ایسے مرد جو بظاہر بہتر تربیت رکھتے ہیں۔

یہ تمام ہی خواتین اور ان کے کپڑوں سے لگا رکھتے ہیں۔صارف شہلا علی خان نے لکھامیں برقعہ پہن کر لیکچر میں سب سے زیادہ حصہ لینے والی لڑکی تھی۔انسان کی شخصیت پراعتماد ہو تو وہ ہر لبادے میں بول سکتا ہے۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں