Kotli satian 129

کوٹلی ستیاں …….سر زمین شہدا

ابتدا گن گلی کے اونچے ٹیلوں سے ہوتی جو ترتیب وار انگشت کی طرح آپس میں جڑے ہوے ہیں۔ قدرت کے یہ حسین جبل خدا کی واحدانیت کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں ربّ باری تعالیٰ کا کرم ہے وہ اس دھرتی کو ہمیشہ فرشتہ صفت اور بہترین لوگوں سےسیراب رکھتا ہے۔

وقت کی کروٹ پل پل بدلتی لیکن خوبیوں کا یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے کیپٹن بلال ظفر عباسی اپنے سینے کو سرخ کروا کر کبھی ارض ستیاں کا مان رکھتا ہے تو کبھی کیپٹن خضر ستی دشمنان ملت پر قہر بن کر ٹوٹتا ہے اور اپنے وطن کے لیۓ ایک مزید شھادت کا اضافہ کرتا ہےتو کبھی ملوٹ ستیاں کے دو سگے بھائی جنّت کا تاج سجائے روشن لحد میں جا پہنچتے ہیں تو کبھی میجر ہلال ستی سرحدوں کی حفاظت میں ایسے گم ہوتے ہیں کے جان چلی جاتی ہے۔

تو کبھی سپاہی قاسم رضا جیسے نوجوان جسم کو چھلنی کروا کر بھی وطن عزیز کی حرمت کو ڈوبنے نہیں دیتے تو کبھی میجر نعیم الدین ستی کی مسکراہٹ خاموش تو ھو جاتی ہے لیکن انکی یادیں بہار کی طرح ہمیشہ سر سبز رہتی ہیں تو کبھی میجر عبداللہ ستی کٹ تو جاتا ہے لیکن ہٹنے کا نام نہیں لیتا تو کبھی راجہ کاشف دھنیال ابدی نیند کو عارضی زندگی پر ترجیح دے دیتا ہے۔

غرضیکہ اس طویل فہرست کو میں کتاب میں بھی نہیں سمو سکتا اس کے لیۓ ضیخم صفحات پر مشتمل کتب بھی شائد کم پڑھ جائیں۔جغرافیائی طور پر ڈھلوانوں اور فلک شگاف پہاڑوں سے مزین کوٹلی ستیاں اپنے مشرق پر آزاد کشمیر کا پڑوسی ہے، مغربی علاقہ جات کرور سے منسلک ہیں، شمال میں ملکہ کوہسار مری ہے اور جنوب مشرق کہوٹہ سے متصل ہے کمپاس کی سوئیاں درست کی جائیں ۔

تو جنوبی خطہ اسلام آباد کی حدود سے جا ملتا ہے ساٹھ کلومیٹر راولپنڈی سے دور تحصیل کوٹلی ستیاں قدرتی رنگوں سے رنگا ہوا ہے.آبادی کے لحاظ سے ستی خاندان کے نفوس دیگر تمام برادریوں سے زیادہ ہیں لیکن دوسرے قبائل میں کھیٹوال، عباسی، دھنیال جنجوعہ، بھٹی اور کیانی خاندان کے باشندے بھی رہائش پذیر ہیں۔
پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر نظر ڈورائی جائے تو کوئل کی رس گھولتی آواز کان کے پردوں پر سرور کی کاری ضرب لگاتی ہے پرندوں کی چہچاٹ موسیقی کے سرُ دیتے ہوے دکھائی دیتی ہے ۔

جوش دیدنی میں جھومتے چیڑ کے درخت رقص کا منظر پیش کرتے ہیں۔رم جھم کا برسنا غموں کی لہر کو ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں طوفان کا جھونکا آلودگی کو پاک کرتا ہے، کڑکتی آسمانی بجلی تنہائی کا احساس دلاتی ہے، برف کی سفید چادر آنکھوں کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے، یخ بستہ ہوائیں سرما کا پتہ بتاتی ہیں سر سبز باغ اللّه پاک کی تجلیات کی دلیل دیتے ہیں .ہر علاقہ اپنی مخصوص سوغات کی وجہ سے مشہور ہوتا ہے تو ہماری دھرتی بھی پھلوں کی پیداوار سے مال مال ہے جن میں سیب،خوبانی،آلوبخارے، لوکاٹ،اخروٹ،املوک،اخروٹ اور جنگلی انار سر فہرست ہیں۔
پہاڑوں کے اوپر چیڑ کے اونچے دیومالائی درخت ایک الگ ہی سماں باندھ دیتے ہیں۔راولپنڈی کی یے پسماندہ لیکن خوبصورت تحصیل وطن عزیز کے خوب صورت مقامات میں سے ایک ہے
سیاحوں کے لئے جنت نظیر کوٹلی ستیاں حکومت کی عدم توجہ کے باعث پسماندگی کا شکار ہے کلیاڑی اور دریائے جہلم پر ڈھلکوٹ کے مقام پر بنا پل جو کے کوٹلی ستیاں کو آزاد کشمیر سے جوڑتا ہے۔

باغ آزاد کشمیر جانے والی تمام ٹریفک ڈیفینس روڈ کوٹلی ستیاں سے ہی ہوکر گزرتی ہے۔اگر کوٹلی ستیاں پر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو سیاحوں کیلئے مثل جنت ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کا یے خوب صورت ترین علاقہ دارالحکومت اسلام آباد صرف سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔کوٹلی ستیاں سر سبز و شااداب قدرتی آبشاروں اور خوبصورت جھرنوں اور صاف اور ٹھنڈے پانی کے خوب صورت چشموں کی سرزمین ہے۔

اس سرزمین کے کئی بیٹوں نے وطن عزیز پر جاں نچھاور کی اور خالق حقیقی کی بارگاہ لم یزل میں سر خرو ہوئے۔کوٹلی ستیاں کے کئی بیٹے پاکستان آرمی میں آج بھی پوری قوت اور مستعدی کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس دھرتی نے ہمیشہ محب وطن ملنسار مہمان نواز اور خوب صورت سپوتوں کو جنم دیا۔

اس دھرتی کو اور اس کے مکینوں کو خصوصی حکومتی توجہ کی ضرورت ہے تمام پاکستانی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے خوب صورت پکنک پوائنٹ اور بنے بنائے پارک قدرتی آبشاریں اور جنگلات موجود ہیں ۔خدائے باری تعالٰی اس دھرتی کو ہمیشہ شاد اور آباد رکھے آمین۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں