mobile and internet addiction in urdu 137

موبائل اور انٹرنیٹ کے چار بڑے نقصانات

ہم اپنا  کتنا قیمتی وقت فیس بک ،گوگل یا ٹویٹر پر گزارتے ہیں ؟کیا کہا کبھی غور نہیں کیا تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں امریکی ادارے کومنسینس میڈیا گروپ کے سروے کے مطابق ایک نوجوان لگ بھگ نو گھنٹے سوشل میڈیا پر گزار دیتا ہے ۔اوہو انٹرنیٹ کی بے انتہا مقبولیت کی ایک وجہ اس کی تیز رفتاری ہے انیس سو پچانوے میں جب یۂ عام آدمی کی پہنچ میں آیا تو اس وقت صرف 1٪  آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی 2005  تک یہ تعداد ایک بلین تک پہنچ گئی 2010۔ میں مزید ایک بلین صارفین کی تعداد بڑھ گئی یعنی دو بلین ہوگی اور مزید ایک ملین صارفین  اگلے چار سال میں ہوگے ۔

انٹرنیٹ کے بہت سے فوائد واضح ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ انٹرنیٹ کے فوائد کے مقابلے میں اس کے نقصان کہیں زیادہ ہیں کیونکہ فوائد کے  بر خلاف انٹرنیٹ کے نقصانات چھپے ہوئے ہیں لہذا عوام اسسے باخبر نہیں ہے اور وہ بے خبری میں اپنا    نقصان کر رہے ہیں۔ آج ہم انٹرنیٹ کے چار بڑے نقصان بیان کر رہے ہیں ۔

(THE INTERNET ADDICTION) ۔1انٹرنیٹ کا نشہ

بر طانیہ میں مطالعہ سے پتہ چلا  کہ ہر پانچ میں سے دو افراد  بے تحاشہ انٹرنیٹ کا استعمال کر تے ہیں۔اور  وہ اس قدر اس کا شکار ہوتے ہیں کہ بار بار ارادے کے باوجود اسے چھوڑ نہیں پاتے ۔ہر پانچ میں سے تین افراد جاگنے کے بعد اور سونے سے پہلے اپنا انٹرنیٹ چیک کرتے ہیں۔ یوں ان کے گھریلو تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ ہر پانچ میں سے دو خواتین نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انہیں اس بات کی فکر ہی کھائی جاتی ہے ۔کہ وہ اپنے شوہر کی توجہ انٹرنیٹ سے ہٹا کر کیسے حاصل کریں۔

90٪ افراد انٹرنیٹ دیکھتے ہوئے وقت گزارتے ہیں اور10٪ افراد کتاب خوانی کرتے ہیں ۔انٹرنیٹ پر بہت سے پر کشش آفر  پیش کی جاتی ہیں جیسے گھر بیٹھے پیسے کما ئیں ۔میں نے ایک مہینے میں ایک ہزار ڈالر کیسے حاصل کر لئے۔ اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک بڑھانے کا کورس  ۔فری ٹرئل  وغیرہ وغیرہ ۔انسانی دماغ  اس سے بچ نہیں پاتا اور پھنستا ہےکسی نہ کسی چال میں۔ آپ کے کسی قریبی دوست کے ساتھ کبھی کچھ نہ کچھ تو ایسا ہوا  ہو گا ۔

(We know a lot but understand less)۔2ہم جانتے بہت کچھ لیکن سمجھتے بہت کم ہیں

معلومات کا حصول بہت ہی آسان ہو گیا ہے صرف ایک بٹن دبانے پر ہزاروں لاکھوں معلومات سامنے   آجاتی ہیں۔فیس بک ہر منٹ میں اڑھائی ملین  مواد شیئر کرتا ہے۔ٹویٹر پر ہر  منٹ  میں تین  لاکھ ٹویٹس کیے  جاتے ہیں۔ یو ٹیوب پر ایک منٹ میں دنیا بھر سے 72گھنٹے کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ ایپ  کے استعمال  کرنے والے صارفین ایک منٹ میں 50000 ایپس ڈاؤنلوڈ کرتے ہیں۔

ایک منٹ میں 200 ملین ای میل بھیج جاتی ہیں ۔گوگل پر ایک دن میں اڑھائی ملین سے زائد  سرچنگ کی جاتی ہیں ۔انسانی تہذیب شروع ہونے کے بعد سے یعنی بارہ ہزا قبل مسیح سے 52003 ایگزا ٹیس معلومات وجود میں آئیں۔اور اب اتنی ہی معلومات ہر دو دن میں وجود میں آرہی ہیں ۔اتنی زیادہ معلومات کی وجہ سے آپ کے خیال میں کوئی فائدہ ہو رہا ہے ۔نہیں جناب انسانی دماغ پر بہت بوجھ بڑھ گیا ہے اکثر جو معلومات ہمارے سامنے آتی ہیں ۔

اگرچہ ہماری سرچ ہسٹری اور پیج ہسٹری  کی روشنی میں ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود کو اتنی غیر ضروری اور غیر متعلقہ ہو جاتی ہیں ان میں سے اکثر کی ہمیں  قطن ضرورت نہیں ہوتی معلومات زیادہ ہونے کی وجہ سے عمومی طور پر تائثر بھی پایا جاتا ہے کہ اس پر فراہم کردہ معلومات مسترد ہیں ۔لیکن حقیقت ایسا نہیں ہے انٹرنیٹ پر موجود بہت کم ویب سائیٹ مسترد معلومات فراہم کرتی ہیں اس لئے یہاں سے حاصل کی جانے والی معلومات ہماری دانش میں اضافہ نہیں کرتی ہیں

(Your privacy is in danger) ۔3آپ کی پرائیویسی خطرے میں ہے

ہم جب بھی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جہاں بھی جاتے ہیں ہزاروں  کوکیز ہمیں ٹریک کرتی رہتی ہیں۔ ہمارے اپنے موبائل فون ہماری اہم اور خفیہ معلومات مختلف اداروں کو فراہم کرتے ہیں ۔یورپی پولیس کے ایک افسر کے مطابق کے کہیں قتل ہو جائے اور ہمیں  پتا نہ چلے ۔؎ہم جب بھی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو بڑی تعداد میں نیا ڈیٹا تخلیق ہوتا ہے  جو ایک سروے کے مطابق ہر سال 5 ہزار پاؤنڈ میں مارکیٹنگ کمپنی کو فروخت کردیا جاتا ہے پھر یہ کمپنیاں اس ڈیٹا کو مختلف قسم کے پراڈکٹ کی مارکیٹنگ اور تیاری کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

(Cyber-crime is out of control) ۔4سائبر کرائم قابو سے باہر ہے

تیس برس میں اگرچہ کئی ملکوں میں جرائم کی شرح کم ہوتی ہے لیکن سائبرکرائم یعنی انٹرنیٹ کے ذریعےکئے جانے والے جرائم بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔بہت سے دیگر جرئم کی طرح  برطانیہ میں ہر سال79٪ نوجوا نو ں کو  سائبر بلنگ  کا سامنا کرنا پڑتا ہے پولیس کے لیے یہ تعداد قابو س سے باہر ہے ۔برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق وہ بمشکل ایک فیصد ذمہ داریوں تک پہنچ جاتے ہیں ۔

یہاں ہم نے صرف چار بڑے نقصانات آپ کو بتا دیے ہیں جو انٹرنیٹ استعمال کرنے سے ہوتے ہیں دوستو ہم ٹیکنالوجی کے مخالف ہیں اور نہ آپ کو انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا سے روکنا چاہتے ہیں لیکن ہر شے کے دو پہلو ہوتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں انٹرنیٹ کا استعمال کچھ ایسے ہو  رہا ہے کہ گویا گنجے کونا  خن مل گئے ہوں اس وجہ سے غیر متوقع مشکلات اور مسائل جنم لے رہے ہیں۔

اگر ہم انٹرنیٹ کے استعمال کے کچھ ظابطے اپنے لیے بنا لیں تو ہم اس کے فوائد سے مستفید ہونگے اور نقصانات سے محفوظ رہیں گے ۔مثلا 14برس سے پہلے بچوں  کو تنہا موبائل یا کمپیوٹر سے   انٹرنیٹ کا استعمال بالکل نہ کرنے دیا جائے زندگی میں توازن اصل ہے ۔

آپ کی پیشہ ورانہ زندگی گھریلو اور سماجی زندگی انٹرنیٹ سے  قطن متاثر نہیں ہونی چاہیے اگر آپ نے  بے ڈھنگے  طریقے سے انٹرنیٹ کامل جاری رکھا تو آپ کی پرسنل اور پروفیشنل لائیو خراب  تو ہوگی اور آپ کی نسلیں بھی برباد ہونگی ۔اس لیے اب بھی اس کے لیے تدابیر اختیار کرنا شروع کر دیں

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں