arslan shaheed 150

ارسلان لیاقت کا قتل: ’پولیس نے بغیر کسی وارننگ کے میرے بیٹے پر سیدھی گولی چلائی‘

سات دسمبر 2021۔
مدعی کے مطابق انہیں معلوم ہوا کہ ارسلان ولد لیاقت اپنے دوست یاسر کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے کے لیے موٹر سائئکل پر گیا ہوا تھا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان ارسلان محسود کے والد لیاقت محسود کا الزام ہے کہ پولیس نے بغیر کسی وارننگ کے ان کے بیٹے پر سیدھی گولی چلائی جس سے اس کی موت واقع ہوئی ہے۔

اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں پونے پانچ بجے کے قریب گذشتہ روز فائرنگ سے ارسلان محسود ہلاک اور یاسر نامی نوجوان زخمی ہو گیا تھا ابتدائی طور پر اسے ڈکیتی کا واقعہ قرار دیا گیا، تاہم بعد میں پولیس کے حلاف فائرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا۔

مرنے والے نوجوان کے والد لیاقت محسود نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل بتایا کو کہ ان کا بیٹا کالج کا طالب علم تھا اور کوچنگ کے لیے اپنے دوست یاسر کے ساتھ موٹرسائیکل پر گیا ہوا تھا کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔ زخمی یاسر نے انھیں گھر پر آکر بتایا کہ ان پر فائرنگ ہوئی ہے، جس کے بعد وہ عباسی شہید ہسپتال پہنچے جہاں ان کے بیٹے کی لاش موجود تھی۔

عباسی شہید ہسپتال میں سٹریچر پر موجود بیٹے کی لاش کے ساتھ لیاقت محسود کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے سینے پر پاکستان کے جھنڈے کا بیج لگا ہوا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا تعلق وزیرستان سے ہے، خون کا بدلہ خون ہے، ان کی برادری کے تمام لوگ پہنچیں۔

مدعی کا کیا کہنا ہے؟
لیاقت محسود ڈمپرز ایسوسی ایشن کے صدر اور تحریک انصاف کے مقامی رہنما بھی ہیں۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما حلیم شیخ بھی عباسی شہید ہسپتال پہنچے، پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی متاثرین سے ملاقات کی جس کے بعد ایس ایچ او کو معطل اور ایک سپاہی کو گرفتار کیا گیا۔
بیٹے کی لاش کے ساتھ لیاقت محسود کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی

ارسلان کے قتل اور یاسر کو زخمی کرنے کا مقدمہ ایس ایچ او اعظم گوپنگ سمیت دو سپاہیوں کے خلاف اورنگی تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

مرنے والے نوجوان کے چچا اور مقدمے کے مدعی بادشاہ خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اپنے ذاتی کام سے نیول کالونی گئے ہوئے تھے رات کو تقریباً سوا نو بجے ان کے رشتے دار ہدایت محسود نے موبائل فون سے اطلاع دی کہ آپ کے بھتیجے ارسلان اور اس کے دوست یاسر کو گولیاں لگی ہیں جو عباسی شہید ہسپتال میں موجود ہیں۔

ان کے بقول ’اس اطلاع پر میں اپنے رشتے دار کے ہمراہ پہنچا تو میرا 16 برس کا بھتیجا ارسلان زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوچکا تھا۔ جب ہم مردہ خانے میں پہنچے تو اس کی لاش سٹریچر پر موجود تھی، اسی دوران دوسرے رشتے بھی آگئے۔‘

مدعی کے مطابق انھیں معلوم ہوا کہ ارسلان ولد لیاقت اپنے دوست یاسر کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے کے لیے موٹر سائیکل پر گیا ہوا تھا۔

بورڈ آفس کے قریب موٹر سائیکل کی چھینا جھپٹی کے دوران ارسلان کو پیٹ میں ایک گولی لگی، جو جسم کے پار ہوگئی جبکہ یاسر کو ٹانگ میں گولی لگی لیکن وہ موٹرسائیکل سمیت فرار ہوگیا۔

بادشاہ خان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہسپتال میں تھے کہ اورنگی ٹاؤن کا سب انسپکٹر محمد منور آیا۔

جس نے ضابطے کی کارروائی کی، مزید معلومات پر پتا چلا کہ تھانے اورنگی کے ایس ایچ او اعظم گوپنگ کے حکم پر کانسٹیبل توحید اور اس کے ساتھی عمیر نے سادہ لباس میں موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر ارسلان کو ہلاک اور اس کے دوست یاسر کو زخمی کیا ہے۔

اورنگ پولیس نے ان کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔‘

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں