no-confidence-motion-differences-between-ppp-and-pml-n 104

عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کیا ہوگا؟ پیپلزپارٹی اور نون لیگ میں اختلافات سامنے آگئے

لاہور : مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کی صورتحال پر اختلافات سامنے آگیا تاہم فضل الرحمان درمیانی راستہ نکالنے کے لئے کوشاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی اور نون لیگ مین عدم اعتماد کےبعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ڈیڈ لاک برقرار ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی قیادت ان ہاوس تبدیلی کی صورت میں پارلیمانی سال مکمل کرنے جبکہ نون لیگ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد انتخابات کےحق میں ہے۔

اختلاف کو ختم کرنے کے لیے لیگی رہنماؤں نے تجویز دی ہے کہ اگر پارلیمانی سال مکمل کرنا ہےتو پھر پیپلزپارٹی اپنا وزیراعظم لے آئے۔

ذرائع نے کہا ہے کہ اسوقت دونوں جماعتیں اس سے اگاہ ہیں کہ آخری پارلیمانی سال میں حکومت کرنا مشکل ہوگا اور وزارت اعظمی والی جماعت پر سارا ملبہ گر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیڈ لاک ختم کرنے کیلئے آج فضل الرحمان نئی تجویز دےسکتےہیں، ن لیگ نے پی پی مارچ کےاختتام پر عدم اعتماد کے اعلان کوتسلیم نہ کیا جبکہ ن لیگ کے چند رہنماؤں کو پیپلزپارٹی پر شکوک شبہات ہیں۔

ذرائع کے مطابق پہلے عدم اعتماد کس کے خلاف لائیں اس پر بھی دونوں بڑی جماعتوں میں اختلاف ہے، نون لیگ وزیراعظم اور پیپلزپارٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور پنجاب میں پہلے عدم اعتماد لانے کےحق میں ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کےبعد اب مولانا فضل الرحمان بھی پنجاب کا بڑا عہدہ مسلم لیگ قاف کو دینے کے حق میں ہیں۔

فضل الرحمان کی جانب سے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کےدرمیان اختلافات دور کرکے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں