construction mafia 98

قبضہ مافیا ناجائز تجاوزات

:پاکستان کے چند بنیادی مسائل
میں سے ایک قبضہ مافیا ناجائز تجاوزات ہے ، یقین جانیں اگر آپ روڈ پر نکلیں گے اور ذرا اپنے آس پاس غور کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کے پورے روڈ پر ہی قبضہ مافیا کا راج ہے ، زیادہ نہ جائیں پاکستان کے اہم جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہی دیکھ لیں فٹ پاتھ توایک طرف روڈز پر مکمل قبضہ مافیا کا راج ہے۔

گرین بیلٹ اسلام آباد میں عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بننے والا کھنہ پل انٹر چینچ ہو یا لہتراڑ روڈ ، راولپنڈی کا راجہ بازار ہو یا صادق آباد مسلم ٹاون ہر جگہ قبضہ مافیا کی آماہ جگاہ بنی ہوئی ہے اگر آپ کسی ریڑھی والے یا ٹھیلے والے کو کچھ کہیں گے تو آگے سےلڑنے مرنے پر اتر آئے گا۔

دوکاندار حضرات دوکان کےآگے ریڑھی لگوانے کے پیسے لیتےہیں نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دوکانوں پر پوسٹر آویزاں ہیں کہ ٹھیہ کے لئے جگہ خالی ہے۔ دوکاندار روڈ پر ریڑھی لگوانے کا فی ریڑھی تین سو سے چار سو یعنی روزانہ یعنی 9 سے 12 ہزار ماہانہ اینٹھتا ہے ۔

کیا کوئی پوچھنے والا ہے؟ کسی دوکاندار کو کے آپ روڈ پر ریڑھی لگوانے کا کرایہ کیسے وصول کر سکتے ہیں،نہیں بالکل بھی نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ جو پوچھنے والے ہیں وہ مہینے کا بھتا لیتے ہیں اور جب سی ڈی اے یا میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی ٹیم آپریشن کے لئے نکلتی ہے تو پہلے سے کال کر کے بتا دیا جاتا ہے۔ اور ریڑھی مافیا کو ایڈوانس خبر کر کے بھگا دیا جاتا ہے۔

قبضہ مافیا اور ٹھیہ مافیا کے بنیادی نقصات :

۔1سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ مضر صحت اشیاء

زرا سوچئے :اگر آپ ریڑھی والے سے اپنے بچوں کےلئے اشیاء خوردونوش خریدتے ہیں۔ تو وہ حفظان صحت کے اصولوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں؟

۔2دوسرا نقصان

عموما ٹریفک جام انہی ریڑھی مافیا اور ناجائز تجاوزات کی وجہ سے ہی ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے کئی نقصانات ہوتے ہیں ،مثلا مریضوں کی گاڑیاں ٹریفک میں پھنسنا وغیرہ

۔3تیسرا نقصان

روڈ پر گندگی کوڑے اور کچرے کے ڈھیر جو یہ لوگ وہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جس سے تعفن بدبو اور کئی بیماریاں پھیلتی ہیں۔

۔4چوتھا نقصان

غیر معیاری اشیاء یعنی کے بری کوالٹی کی چیزیں ، ریڑھی والا آپکو بولے گا یہ 150 کی ہے یہ 100روپے کی ہے اور یہ 80 روپےکی ہے ،چاہے آپ 150 کے حساب سے لے لیں لیکن وہ آپکی مرضی کی چیز نہیں دے گا ضرور کچھ نہ کچھ گلا سڑا بھی شامل کرے گا

۔5ریٹ بارگیننگ

ہر بندہ آپس میں بارگیننگ کرے گا کہ ایک ریٹ میں چیز نہیں ملے گی ہر کسی کا اپنا اپنا ریٹ جتنے میں جو پھنس جائے اتنے میں سامان بیچ دیا جائے گا۔

۔6ملک کا نقصان

ہم ریڑھی والوں کو غریب سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں لیکن یہ لوگ ملک کے لئے کتنے نقصان دہ ہیں اس بارے میں سوچئیے۔نہ بجلی کا بل نہ دوکان کا کرایہ نہ انکم ٹیکس نہ کاروباررجسٹرڈمفت پانچ سات ہزار کی دیہاڑی لگا کر چلتا بنا ، اور ریڑھی والے کے بھیس میں ملک دشمن عناصر بھی ہو سکتے ہیں کسی کو کیا پتا ، پاکستان کا سب سے سستا اور منافع بخش کاروبار کوئی بھی پکڑ لے ۔

اب آتے ہیں اس مسئلے کے حل کی جانب اس کا حل کیا ہے ، اگر حکومت ان سب کو ختم کرواتی ہے تو بہت سے لوگ بے روزگار ہو جائیں گے تو اس کا حل یے ہے کے حکومت ان کو روڈز سے اٹھا کر کھلی جگہوں پر لے جائےاور ان کو جگہ الاٹ کرے اور ان سے پیسے لے ان کو رجسٹرڈ کرے اور ان کو چیک اینڈ بیلنس کرے ۔

ریٹ لسٹ دے ان کو تاکہ بارگیننگ والا سسٹم ختم ہو۔اور چیز چاہے مہنگی ہو لیکن کوالٹی پر کوئی کمپرومائز نہ ہو۔اگر یہی ریڑھی والا دوکان میں بیٹھ کر صحیح طریقے سے صفائی کے ساتھ کاروبار کرےچاہے دس بیس روپے مہنگا ہو لیکن حفظان صحت کے اصولو کے عین مطابق ہو اور اچھی اور صاف ستھری چیزیں بیچتا ہو جوکہ دھول مٹی سے پاک ہوں اور گلی سڑی نہ ہوں چاہے دو روپے مہنگی ہوں لیکن اچھی کوالٹی کی ہوں تو قوم کو کتنا فائدہہو ،ملک می اچھاخاصاریونیواکھٹاہو ۔

خالی دوکانیں اچھے کرایے پر لگ جائیں ۔ ٹریفک جام سے جان چھوٹ جائے ۔ بہت سارے پارکنگ کے مسائل حل ہو جائیں ، گندگی بدبو اور تعفن سے جان چھوٹے گی سڑکیں صاف ستھری نظر آئیں اور کئی ایک مہلک بیماریوں سے بچاجاسکے۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں