103

پانی کی تقسیم کے مسئلے پرسینیئرکالم نگار ماریہ ملک کا کالم

وفاق اور سندھ حکومت کے مابین پانی کی تقسیم پر آئے دِن سیاسی بیان بازی جاری رہتی ہے۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وفاق نے طے شدہ طریقے کے خلاف سندھ کے ساتھ پانی کی تقسیم پر ناانصافی کرتے ہوئے سندھ کے حصے کا پانی نہی دیا۔جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے اس بات کا دعوہ کیا گیا ہے کہ سندھ کو مقررہ مقدار سے بڑھ کر پانی دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کو بہت بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے۔ سارے پاکستان میں پانی کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے ہماری حکومت دس ڈیمز بنارہی ہے۔پاکستان میں پانی کی قلت اور آئے دن صوبوں میں پانی کی تقسیم پر ہونے والے تنازعوں کی اصل وجہ پچھلے 50 سالوں میں ڈیمز کا نہ بننا اور بھارت کا پانی چوری کرنا ہے۔ پانی کی اس کمی کی وجہ سے کمزور غریب کسان کے پاس پانی نہیں پہنچتا اس کا پانی چوری ہوجاتا ہے۔

طاقتور زمیندار اپنی زمین میں پانی لے جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ کمزور زمیندار کی زمین خشکی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یقیناً یہ مسئلہ سارے پاکستان کا ہے مگر سندھ میں پانی کی تقسیم کے مسائل باقی صوبوں کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ ہر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کمزور لوگوں کی پانی کی ضرورت کا خیال رکھے لیکن بد قسمتی سے سندھ میں کمزور زمیندار بڑے سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے زمینداروں کے آگے بے بس و لاچار ہیں۔

“وزیراعظم نے کہاکہ اس سلسلے میں سندھ حکومت کو رینجرز کی سہولیات مہیا کرنے کو بھی تیار ہیں۔”لیکن سندھ حکومت تاحال اس مسئلے کو حل کرنے سے قاصر ہے.حالیہ پیچیدگی کے پیشِ نظر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے صوبہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں اضافہ کر دیا ہے۔

واٹر ریگولیٹر نے بتایا سندھ کے لیے پانی کی فراہمی کو 66 ہزار سے 71 ہزار کیوبک فٹ تک کردیا ہے۔ واٹر ریگولیٹر نے کہا کہ صوبہ سندھ اپنے علاقوں میں 39 فیصد نقصان کی اطلاع دے رہا ہے جبکہ نقصان کی حد 30 فیصد تک ہے۔
ریگیولیٹر نے مزید کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ اور پانی کی دستیابی میں اتار چڑھاؤ کے سلسلے میں صوبائی آبی حصص میں ایڈجسٹمنٹ کی جا رہی ہے۔ سندھ آبپاشی کے حکام آب پاشی کی قلت کے باوجود کوٹری میں ندی کے پانی کے بہاؤ کی بھی اجازت دے رہے ہیں۔

ارسا کی ایڈوائزری کمیٹی نے 8 اپریل کو خریف 2021ء کے لیے پانی کی فراہمی کا معیار، خریف کے اوائل میں 16 فیصد اور خریف کے آخر میں 4 فیصد کی کمی، کے ساتھ منظور کیا تھا۔ سندھ سمیت تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پانی کے مؤثر استعمال اور تقسیم کے طریقوں سے متوقع قلت کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

صوبائی حصص کی تقسیم تین درجے کے فارمولے کے مطابق تھی جس پر سندھ نے بھی اتفاق کیا تھا۔لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب میں سندھ کے پانی کا حصہ کم کرنے اور نہروں کے ذریعے پانی کی مبینہ چوری، کرنے پر وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔بلاول بھٹو زرداری کے ان الزامات پر واٹر ریگولیٹر نے کہا کہ اس نے سندھ کے پانی کا حصہ کم نہیں کیا بلکہ حقیقت میں پنجاب کے پانی کو کم کرکے تونسہ کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا۔ تربیلا اور چشمہ آبی ذخائر میں ندی کے بہاؤ میں موجودہ ڈپ کو غیر ضروری طور پر نیچے بہا دیا گیا تھا کیوں کہ کوئی باقاعدہ ذخیرہ موجود نہیں تھا۔

واٹر ریگیولیٹر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے گزشتہ ماہ سے علاقائی آب و ہوا میں تبدیلی اور تربیلا، منگلا اور آبی ذخائر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اپریل میں تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ کی سطح تاریخ میں سب سے کم 15 ہزار سی ایف ایس سے 13 ہزار سی ایف ایس تک پہنچ گئی تھی۔ منگلا ذخائر کے اخراج کو کم کرنے پر سندھ کے اعتراض پر ارسا نے کہا کہ آبی ذخائر کو محدود حد تک برقرار رکھنے کے لیے 3 مئی کو فوری طور پر 55 ہزار سے 50 ہزار سی ایف ایس گھنٹہ کر دیا گیا تھا۔

اسی دوران سندھ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 0.710 ایم اے ایف تک پانی منگلا ذخائر سے خصوصی طور پر 6 اپریل سے 2 مئی تک چھوڑا گیا تھا۔انڈس ریورسسٹم اتھارٹی صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے جدید سافٹ وئیر نصب کردیا ہے جس کووزارت آبی وسائل، ارسا، واپڈا، صوبوں کے محکمہ آبپاشی اورآسڑیلیا کے تعاون سے تیار کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبوں کے درمیان 1991ء کے معاہدے کے تحت پانی تقسیم کا اصول طے کیا گیا تھا۔اور اس طریقہ کار کو طے کرنے کیلئے پانی تقسیم معاہدے کیلئے سافٹ ویئرٹولزبنائے گئے۔ سافٹ ویئر کے ذریعے غیردستاویزی طریقہ کارکوجانچا اور طے کیا گیا، سافٹ ویئرسے پانی کی مختلف موسموں کے دوران تقسیم کوشفاف اورمنصفانہ بنایا جائے گا۔

سافٹ ویئر سے 10 دن کیلئے پانی کی تقسیم کا پیشگی طریقہ کار طے کیا جا سکے گا۔ سافٹ ویئرکو2020ء کی فصل خریف اور 2020-2021ء کی فصل ربیع کیلئے کامیابی سے استعمال کیا جا چکا ہے۔ سافٹ ویئر سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور نقصانات کا تخمینہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا)نے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم اور موسمی منصوبہ بندی کے لیے ایک درست اور قابل بھروسہ طریقہ کار یقینی بنانے کے لیے واٹر ایکارڈ اپورشنمنٹ ٹول (ڈبلیو اے اے ٹول)کو باضابطہ طور پر اپنا لیا۔

یہ سافٹ ویئر آسٹریلوی حکومت، صوبوں کے محکمہ آب پاشی(پی آئی ڈیز)، واپڈا، ارسا، وزارت آبی وسائل کی مشترکہ درخواست پر دولت مشترکہ سائنسی اور صنعتی تحقیقی تنظیم (سی ایس آئی آر او)نے 2 سال کے عرصے میں تیار کیا۔ اس طریقہ کار کو گزشتہ 2 موسموں کے دوران جانچا جاچکا ہے تاہم ارسا نے وسط موسمی جائزے کا عمل شامل کرنے کے لیے آسٹریلوی حکومت اور سی ایس آئی آر او سے اسے اگر ممکن ہو تو مزید بہتر بنانے کی درخواست کی تھی۔

ارسا کے مطابق یہ سافٹ ویئر واٹر ریگولیٹر، پی آئی ڈیز اور واپڈا کو ان کی موسمی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گا کیوں کہ یہ دہرائے جانے کے قابل عمل میں غیر دستاویزی طریقہ کار کو پکڑتا، موسمی پانی کے تعین میں شفافیت اور تسلسل فراہم کرنے کے ساتھ پانی کے وسائل کی زیادہ منصفانہ اور موثر تقسیم کا اہل بناتا ہے۔
واٹر ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ یہ سافٹ ویئر اسٹیک ہولڈرز کو بہاؤ کی مختلف پیش گوئیوں، ذخائر کی کمی اور صوبوں کی تقسیم پر موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو جاننے میں مدد دے گا اور پانی کے وفاقی اور صوبائی اداروں کے عملے، ماہر تعلیم، سائنسدانوں اور طلبہ کی تربیت میں معاونت کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔

قارئین اِن تمام مسائل میں کہیں وڈیرا شاہی اور کہیں سیاست ملوث ہے۔ لیکن تمام سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کے پیشِ نظر پاکستان میں پانی کی قلت کے خاتمے کے لئے ڈیمزکی تعمیر پر بھرپور توجہ دینا ہوگی اور زیادہ سے زیادہ پانی کے ضیاع کو روکنا ہو گا۔ وفاقی حکومت نے اگلے دس سالوں کو ڈیمز کی دہائی قرار دیا ہے جو کہ یقیناً پانی کے مسائل کو کافی حد تک حل کر دے گا۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں