humera illiyas column 270

‏قیادت کے سنہری اصول 

اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو فیصلہ سازی میں تذبذب کا شکار لوگ، حتی کہ کمپنی کے مالکان بھی فیصلہ سازی اور ٹیم ورک کے فقدان کا شکار دکھائی دیتے. ایسے میں اگر کوئی دبنگ فیصلے لینے والا رہنما ہمارے سامنے ہو تو کند ذہن لوگ اس کو چور راستوں سے گرانے کی کوشش کرتے. 

قوموں کی بقاء کا دارومدار سخت اور فوری فیصلوں میں ہوتا. آج تک پاکستان میں قیادت کے فقدان کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے قائدانہ صلاحیتوں کو ابھارنے پر کام ہی نہیں کیا. ہمیں علم ہی نہیں کہ قیادت کے اندر کن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے. قائدانہ صلاحیت کچھ لوگوں کے اندر اللہ کی خصوصی عطا ہوتی اور کچھ اپنی شخصیت پر کام کر کے یہ صلاحیت پیدا کرتے.

ہر دو صورتوں میں قائدانہ صلاحیت رکھنے والے انسان کی کام کرنے کی کوالٹی ایک عام انسان کی نسبت بہت بہتر ہوتی.

ایک قائد فیصلہ ساز و ذہن ساز ہوتا اور اگر یہ ذہن سازی کسی خاص بڑے مقصد سے جڑی ہو تو اس کے نتیجہ میں دنیا میں بہت بڑی تبدیلیاں پیدا ہوتیں. لیکن ذہن سازی سے قبل کچھ ایسی خاص شخصی جہتیں ہیں جن کی پختگی پر کام کئے بنا قائدانہ جوہر کھل کر نہیں دکھائے جاسکتے.

ایک رہنما ہونے کے لئے، یا کسی ٹیم کو بطور سربراہ کامیابی سے ہمکنار کروانے کے لئے کردار کی کچھ خصوصیات درج ذیل ہیں.

۔1 حوصلہ افزائی اور جس کاکام اسے سراہنا

جب ٹیم کا کوئی ممبر اپنی شعوری کو شکرے، بھلے وہ تھوڑی بھی ہو، اسے سراہا جائے، جب دوسرے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اس کے اندر مزید کام، اورمزید اچھے سے کام کرنے کاجذبہ ابھرتا جو ہمیشہ ٹیم ورک کی بنیاد بنتا.

ضروری نہیں کہ ہر وقت ٹیم ممبر بہترین پرفارمنس ہی دینے کی پوزیشن میں ہو، اس کے جذباتی میلان، گھریلو پریشانیاں یا صحت کی حالت کو مدنظر رکھنا اور پھر جتناکام اتنی تعریف آپکے ٹیم مم رز میں نیا ولولہ پیدا کردیتی ہے.

۔2 اچھا سامع

ایک بہترین رہنما کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنے ٹیم ممبرز کو سنتا ہے. آپ محض اپنی بات سنائیں اور ممبر کی بات کو یا تو اگنور کریں، یا اپنا انٹرسٹ شو نا کریں، یا ان کو بات کرنے کا موقع ہی نا دیں، اس کی بات کے دوران تعریفی، سوالیہ یا متعلقہ ریمارکس نا دیں تو یہ ممبرز کو ٹیم رہنما کی طرف سے بدظن کرتا جس سے اوورآل ٹیم کی کوششوں میں کمی آتی اور پروڈکٹیویٹی کم ہو جاتی. 

۔3 اپنے عزم کی پختگی کا اظہار

ایک عظیم رہنما بار بار اپنے عزم کا اظہار کرتا رہتا تاکہ ٹیم ممبرز کے اندر اس عزم سے جڑے رہنے کاجذبہ موجزن رہے. اگر رہنما ہی اپنے مقصد کی افادیت سے آگاہ ناہو، یا وہ اس کے بار بار اظہار پر توجہ نا دے تو تمام ٹیم آہستہ آہستہ سست ہوتی چلی جاتی ہے.

۔4 مقصد کا واضح تعین

رہنما کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے مقصد کی سمت کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو. اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک اس کا ذہن خود اپنے کام سے متعلق بہت واضح نا ہو. اگر وہ خود گومگو کیفیت کا شکار ہے تو وہ اپنی ٹیم کو ایک واضح سمت نا دے پائے گا، اور نتیجتا” اس کی ٹیم کی تمام جائز کوششیں بھی ضائع ہو جائیں گی.

۔5  اپنے مقصد کے بارے مستقبل کی واضح پلاننگ

عظیم رہنما نا صرف اپنے مقصد بارے واضح ہوتے، بلکہ ان کے پاس مستقبل کے لئے بھی ایک مکمل تشکیل شدہ پلان موجود ہوتا، جو ممکنات پرمبنی ہوتا.. اور اس مقصد کے لئے لیڈر کے پاس موجودہ پلان کے ساتھ متبادل. پلان ہمیشہ موجود ہوتا، اس proactivity کی وجہ سے حالات اگر خراب ہو بھی جاییں تو بھی ٹیم کی کام کرنے کی رفتار پر فرق نہیں پڑتا. مستقبل پر نظر رکھ کر آج کی بہتر منصوبہ سازی ہی ایک عظیم لیڈر کی پہچان ہے.

۔6 کردار کی پختگی

کسی بھی قائد کی شخصیت کے اہم پہلوؤں میں ہے کہ وہ وعدے کا پکا ہو، جو بات کہے پورا کرے، مخلص ہو، اصولوں کا پابند ہو، ایماندار ہو، حق بات کے لئے ڈٹ جانے والا ہو اور سب سے بڑھ کر دوسروں کا ہمدرد و غمگسار ہو.

۔7مقصدیت سے بھرپور کام

اگر لیڈر محض ذاتی پسند ناپسند یا کسی خاص سے تعلقات کی بنیاد پر اپنے فیصلے مرتب کرے گا تو ٹیم. ممبرز کے اندر بے چینی پیدا ہونے لگے گی. ٹیم لیڈر کے لئے بہت اہم ہے کہ وہ اپنے فیصلے کھلے دل سے کرے اور تیم. سے باہر کے لوگ بھی اگر کویی بہتر مشورہ دین تو اسے اپنانے مین ہچکچاہٹ محسوس نا کرے تاکہ مقصد تک پہنچنے کا بہتر راستہ اختیار کیا جاسکے .

۔8 موٹیویٹ کرنے والا ہو

لیڈر اپنے ممبرز کونفسیاتی طور جانچ کر ان سے بہتر کام لینے کے طریقے ڈھونڈے. کچھ لوگ چیلنج لے کر کام کرتے، کچھ کے لئے حوصلہ افزائی ضروری، کچھ ذمہ داری لینے کی صلاحیت رکھتے تو اپنے ممبرز سے ان کی صلاحیت کے مطابق کام. نکلوانے کی اہلیت رکھتا ہو.

۔9 ناکامی کا سامنا کرنے کی اہلیت

لیڈر ہر وقت کامیاب نہین ہوگا، لیکن اس کی ناکامی پر اس کا ردعمل پوری ٹیم کو یا تو اخلاقی طور تباہ کردے گا یا ایک دم مضبوط چٹان کی مانند کھڑا کردے گا.

ناکامی، کامیابی کی سیڑھی ہے، اور اس سیڑھی سے گزرے بنا منزل کی پائیدگی ممکن نہیں تو ناکامی سے گھبرا جانے والا ایک کمزور لیڈر بنتا جس کے انڈر کام. کرنے والی ٹیم بھی سختی کو برداشت نہین کر پاتی. ناکامی کا خوف مسلسل اعصاب پر طاری رہے تو کامیابی کے راستے بند ہونے لگ جاتے.

۔10فوری مشکل فیصلہ سازی کی اہلیت

لیڈر کے اندر مشکل حالات میں فیصلہ سازی کی اہلیت ہونا ضروری ہے. تذبذب کا شکار رہنے والے لوگ اچھے لیڈر نہیں بن سکتے.

۔11اپنے ممبرز میں اختیارات کی تقسیم

ایسے لیڈرز جو ہر کام خود کرنے کی کوشش کرتے اور اختیارات کو منتقل نہیں کر پاتے، یا اپنےٹیم ممبرز کو اختیارات تو سونپ دیتے لیکن فیصلہ سازی میں انہین بااختیار نہیں کرتے، ان. کی ٹیم کی ذہنی کیفیت مسلسل انتشار کا شکار رہتی اور فائنلی تیم کی کام. کرنے کیصلاحیت کم ہونے لگتی. ٹیم ممبرز کو ان کی صلاحیت کے مطابق کام. بانٹ دئیے جائیں اورپھر ان پٹ پر ان. کی حوصلہ افزائی کی جائے تو ممبرز کے اندر جوش ہمیشہ موجود رہتا جو ٹیم کے لئے خوش آئند ہوتا.

۔12 ٹیم لیڈر ایک مثال

لیڈر جو کام کرنے کو کہے، وہ خود بھی وہ کرے.. اگر لیڈر کے قول و فعل میں تضاد ہو تو ٹیم. کے اندر بھی یہ تضاد سرایت کر جاتا اور یوں ٹیم. کی مقصدیت ختم ہونے لگتی.

یہ تمام. خصوصیات آپ کو اپنے ملک کا لیڈر منتخب کرنے میں مددگار ہو سکتیں. اگر ہم واقعات قائدانہ صلاحیت رکھنے والے لوگ اسمبلیوں میں بھجوا پاتے تو آج ہارس ٹریڈنگ اور ملک کو معاشی مسائل میں جانے سے بچا لیتے. آج بھی وقت ہے درست فیصلے کا، اپنے اندر کی قائدانہ صلاحیت کو آزمائیں اور درست فیصلے لیں تاکہ پاکستان خوشحال اور ترقی کے منازل کی طرف گامزن رہے.

پاکستان زندہ باد. 

تحریر ۔ حمیرا الیاس
ٹویٹر

‎@humma_g

Humera Ilyas
Author: Humera Ilyas

Humera Ilyas Blogger, Contents Writer, Working as Journalist in Multimedia News Twitter @humma_g

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں