Hec official logo 104

ہائیرایجوکیشن کمیشن کو نجی یونیورسٹیز کے غیرقانونی کیمپس بند کرنے کا حکم

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں یونیورسٹیوں کے غیرقانونی کیمپسز سے ڈگریاں جاری نا کرنے کی درخواست پرسماعت ہوئی ، کیس کی سماعت جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔

عدالت نے استفسار کیا سوال تھا کیا نجی یونیورسٹیاں اپنی حدود سےباہرذیلی کیمپس قائم کر سکتی ہیں ؟ ایچ ای سی نےواضح کردیا یونیورسٹیوں کو حدود سے باہر کیمپس کی اجازت نہیں ۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی نےکئی بارنجی یونیورسٹیوں کوغیرقانونی کیمپس پر الرٹ جاری کیے، ایچ ای سی کاموقف ہےغیر قانونی سرگرمیوں کو ختم کرانے میں تعاون ناگزیرہے، وفاق،صوبائی حکومتوں نےہائیرایجوکیشن کمیشن کےساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔

وکیل علی ظفر نے کہا عدالت نےنیب کونجی یونیورسٹیوں کےخلاف کارروائی کا حکم دیاتھا، جس پر عدالت کاکہنا تھا کہ کمیشن کےپاس اختیارات ہیں، نیب کومعاملےکی تحقیقات کرنےکی ضرورت نہیں۔

جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ اگرایچ ای سی کمزور ہے تو وفاق کو حکم دیں گے ، قوانین میں ترمیم کرے،وکیل طلباعلی ظفر نے کہا طلبا لاہور ہائی کورٹ اپنی ڈگریوں کے لیے گئےتھے، لاہور ہائی کورٹ نے نجی یونیورسٹیوں کے کیمپس کوغیر قانونی قراردیا۔

جسٹس عمرعطابندیال نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے درست اورحقائق پرمبنی فیصلہ دیا۔

سپریم کورٹ نے ہائیرایجوکیشن کمیشن کو نجی یونیورسٹیز کے غیرقانونی کیمپس بند کرنے کا حکم دے دیا اور کہاغیر قانونی کیمپس سے پاس طلبا کو مخصوص طریقےسے ڈگریاں دیں۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن کی یکساں پالیسیزپرعملدرآمدیقینی بنایاجائے، نوجوان نسل کواعلیٰ تعلیم کی فراہمی پرکوئی سمجھوتانہیں ہوگا، وفاق ،صوبائی حکومتیں ایچ ای سی معیاربرقراررکھنےکے لیےتعاون کریں۔

یاد رہے طلبا نے غیرقانونی کیمپسز سے ڈگریاں جاری نا کرنے پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں