90

سیالکوٹ واقعہ: فیکٹری میں پہنچ کر کیا دیکھا؟ پولیس کا مؤقف سامنے آ گیا

سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے دونوں افراد کو پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق حفاظتی تحویل میں موجود دونوں افراد سے فیکٹری میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق معلومات لی جا رہی ہیں۔

سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کی ہلاکت پر پولیس کا مؤقف ہے کہ واقعے کی اطلاع تب ملی جب ہجوم نے سڑک بلاک کی، ریسکیو کو پہلی کال جی ٹی روڈ بلاک ہونے کی ملی، جس شخص نے کال کی اس نے بتایا کہ فیکٹری میں کچھ ہنگامہ ہو رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نفری گیٹ پھلانگ کر فیکٹری کے اندر داخل ہوئی، فیکٹری کے اندر ہجوم فیکٹری مالک شہباز بھٹی کو زدوکوب کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق فیکٹری مالک کو مشکل سے ہجوم کے چنگل سے آزاد کرایا، باہر سے ہجوم دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہو گیا، ہجوم نے مین گیٹ کھولا اور سری لنکن منیجر کی لاش سڑک پر لے گئے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل سیالکوٹ کی اسپورٹس فیکٹری میں مشتعل ہجوم نے مذہبی پوسٹر اتارنے کے الزام میں سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کر دیا تھا اور پھر اس کی لاش کو سڑک پر گھسیٹ کر نذر آتش کر دیا تھا۔

پولیس نے اس واقعے میں 13 مرکزی ملزمان سمیت 120 افراد کو حراست میں لے رکھا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔


وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں