slander 134

‏تُہمت، ہمارے معاشرے کا ناسور

کسی مسلمان کا برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہونا بلاشُبہ بُرا ہے لیکن کسی پر تُہمت لگانا، اِس سے کہیں زیادہ بُرا ہے۔ ہمارے مُعاشرے میں جو برائیاں ناسُور کی طرح پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک تُہمت لگانا بھی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے، کہ آخر تہمت ہے کیا ؟ تہمت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کسی کی طرف ایسے عیب کی نسبت دے جو اس کے اندر نہ پائے جاتے ہوں۔

تہمت گناہ کبیرہ میں سے ایک ہے ،اور قرآن مجید نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے،اس کے لئے سخت عذاب کا ذکر کیا اور احادیث میں بھی کسی پر بے وجہ تہمت لگانے کو شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام قرار دیاگیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ مؤمنین اور بے گناہ مؤمنات کو زبانی ایذا دینے والوں یعنی ان پر تُہمت لگانے والوں کے عمل کو صریح گناہ قرار دیاہے۔رسول ﷺ کا فرمان ہے، “جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی الزام لگایا ، تہمت ، یا جھوٹی بات منسوب کی جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے ، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے دنیا میں باز آ جائے رک جائے ، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہو” مسنداحمد۔

حضرت علیؓ کا قول ہے” بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا  آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔”

الغرض مسلمان پر تُہمت لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں،اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اور جس پر تہمت لگائی ہے اس سے معافی مانگنی چاہیے؛ تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہو۔اب بات کریں ہمارے معاشرے کی تو یہاں کیسی بھی شخص پہ تُہمت لگانا بہت عام ہوگیا ۔

مگر تہمت ہمارے معاشرے کی سلامتی کوجہاں بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے -وہیں اجتماعی عدل و انصاف کو ختم کردیتی ہے ،حق کو باطل اور باطل کو حق بناکر پیش کرتی ہے ،تہمت انسان کو بغیر کسی جرم کے مجرم بناکر اس کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیتی ہےاگر معاشرے میں تہمت کا رواج عام ہوجائے اور لوگ اس پر یقین کرلیں تو حق و باطل کی تمیز مشکل ہو جائے گی۔

وہ معاشرہ جس میں تہمت کا رواج عام ہوگا اس میں حسن ظن کو سوء ظن کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اورلوگوں کا ایک دوسرے سے اعتماد و بھروسہ اٹھ جائے گااور معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا یعنی پھر ہر شخص کے اندر یہ جرات پیدا ہوجائے گی کہ وہ جس کے خلاف ، جو بھی چاہے گازبان پر لائے گااوراس پر جھوٹ ، بہتان اور الزام لگا دے گا۔

مکرمی!! ہمیں چاہیے کہ تہمت جیسی بدترین نفسیاتی بیماری سے خود کو محفوظ رکھے اور دوسروں کو بھی ایسے گناہ انجام دینے سے منع کریں ورنہ اگر یہ نفسیاتی بیماری معاشرے میں پھیل گئی تو رفتہ رفتہ پورا معاشرہ بربادہ ہوجائے گا پھر نہ کوئي کسی پر اعتماد کرے گا اور نہ ہی بھروسہ اور پھر ایک بدترین ماحول پیدا ہوجائے گا ،جس کی وجہ سے انسانیت کا وقار ختم ہوجائے گا اور برائی کا چلن عام ہوجائے گا۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں