Sood haram 99

سود کی لعنت سے چھٹکارا پانا معاشرے کی اہم ضرورت۔

پاکستان میں سودی نظام کے خاتمے کے لئے سب سے پہلے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ سود کی لعنت کہاں کہاں موجود ہے۔
کون کون سے کاروبار سود کی لعنت کے ساتھ جڑے ہیں اور کون لوگ اس نظام سے وابستہ ہیں،کیا صرف پاکستانی بینک ہی اس کاروبار سے وابستہ ہیں؟ نہیں اس نظام سے سے اور بھی بہت سی چیزیں جڑی ہیں۔
آجکل تو اس نظام میں عام آدمی بھی ایسے ڈوبا ہوا ہے کچھ لوگ قسطوں پر الیکٹرانک کا سامان بیچتے ہیں تو کچھ گاڑی کے کاغذات اور زمین جائداد کے پیپرز رکھ کر سود پر قرضہ تک دیتے ہیں۔
اگر قرض دہندہ ٹائم پر اپنے پیسے واپس نہ کر سکے تو اس کی ساری زندگی کی کمائی سے خریدی گئی گاڑی یا جائداد سود خور ہڑپ کر لیتے ہیں۔
اس طرح سود پر رقم لینے والا ہمیشہ کے لئے ڈوب جاتا ہے اور سود خور کے اثاثے بڑھتے رہتے ہیں ۔ سود اور رشوت ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اور ہم اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ سود اللہ سے جنگ کے مترادف ہے۔
جب ہم یے سمجھ رہے ہیں کے سود کا لین دین کرنے کرنے والے دونوں فریق گنہگار اور جہنم کا ایندھن ہیں۔
تو کم از کم ہمیں اللہ کے ڈر سے اپنے آپ اور اپنے اہل عیال کو جہنم سے بچانے کی خاطر سود سے بچاؤ کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔
ہمیں اگر ترقی اور فلاح کی طرف جانا ہے تو ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنے معاشرے کو ڈھالنا ہوگا ۔اور سود اور رشوت سے پاک معاشرے کا قیام امن میں لانا ہوگا۔
معاشرے میں پنپنے والی برائیوں کی بھی بڑی وجہ سود اور رشوت ہے، اگر سود اور رشوت کا خاتمہ ہو جائے تو معاشرہ کئی برائیوں اور اور گناہوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
ذرا سوچئے اگر ہم سود کے نظام کا خاتمہ کردیں تو منافع خور کیسے منافع کما پائے گا اور کیسے اپنے اثاثے بڑھا کر اپنی دولت کی دھونس جما پائے گا۔
اور اگر سود اور حرام کا پیسہ نہیں ہوگا تو اپنے اور اپنے بچوں کے گناہوں کی پردہ پوشی نہیں کر پائے گا رشوت نہیں دے پائے گا۔
اور مجرم کو اس کے کئے گناہوں کی سزا ملے گی جب کچھ مجرمین کو ان کے گناہوں کے مطابق سزائیں ملیں گی تو آیندہ کوئی جرم کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔
یے کہنا غلط نہیں ہوگا کے ہر جرم کی وجہ سود اور رشوت ہے کیونکہ بااثر سود خور مجرموں کو پتہ ہے کے وہ بڑے سے بڑا گناہ کر کے بھی اپنے پیسوں سے رشوت دے کر بچ جائیں گے۔ ہمیں اگر سود اور رشوت خوری سے پاک معاشرہ چاہیے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے شروع کرنا ہوگا۔
ہم اگر یے عہد کرلیں گے سود اور رشوت نہ دیں گے اور نہ لیں گے تو ہی ہم اس نظام کی جڑوں کو معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔ کہتے ہیں کہ فلاں افسر غریبوں سے رشوت لیتا ہے تو جناب عالی غریب اس کو کیوں رشوت دیتا ہے۔
اگر غریب غلطی کرے گا تو اس غلطی کی پاداش میں پکڑا جائے گا سزا سے بچنے کے لئے سود پر پیسے لے کر رشوت خور کو دے گا اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کرے گا۔
یا پھر سود پر پیسے لے کر کام کاروبار شروع کرے گا جلدی امیر ہونے کے چکر میں سود اور قرض میں دھنسے گا مہنگی چیزیں بیچ کر بھی قرض اور سود کی دلدل سے نہیں نکل پائے گا۔
اتنی تگ و دو اور کوششوں باوجود اس دلدل سے نہیں نکل پائے گا تو پھر یا گناہ کا راستہ اپنائے گا یا کوئی غلط کام کرے گا۔
حتی کہ روز بروز گناہوں کی فہرست میں اضافہ کرتا جائے گا کیونکہ اس نے اللہ سے جنگ کی تو مالک کائنات سے جنگ کرکے کیسے؟ وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
سود کے نظام کے خاتمے کے لئے ہمیں آگاہی مہم چلانی چاہئے کیا کیا چیز اور کون کون سے کاروبار سود کے زمرے میں آتے ہیں کم علم لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔
ہم بڑے لیول سے سود کے نظام کو ختم نہیں کرسکتے بلکہ ہمیں چھوٹے لیول سے کوشش کرنی ہوگی اپنے آپ سے شروع کرنا ہوگا۔
جب آپ کسی درخت کی شاخوں کو کاٹتے ہیں تو ایک شاخ سے چار چار شاخیں پھوٹتی ہیں اور ان کا اور زیادہ پھیلاؤ ہوتا ہے۔
اس کی نسبت اگر آپ درخت کو جڑوں سے ختم کریں گے تو وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔
سود کا نظام ایک تناور درخت بن چکا ہے جسکی جتنی شاخیں آپ کاٹیں گے کچھ عرصے بعد نئی شاخیں اور زیادہ تعداد میں پھیل جائیں گی۔
اور اس تناور درخت کی مضبوظ جڑیں ہم لوگ خود ہیں جو کچھ جانتے بوجتے اور کچھ انجانے میں اس نظام کو اور طاقتور بناتے جا رہے ہیں۔
ہمیں اپنے آپ سے اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے شروع کرنا ہوگا آگاہی مہم چلانی پڑے گی، جہاں تک ہماری رسائی ہے چاہے سوشل میڈیا ہو فیس بک ٹوئٹر ہو یا ہماری روز مرہ زندگی ہو۔
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک سود اور رشوت سے پاک معاشرے کا قیام عمل میں لانا ہوگا۔
ڈیلی خبریں ڈاٹ کام نے جیسے آپ ایک ٹاپک دیا آپ اس پر لکھ کر بھی اپنی رائے کا اظہار کرکے بھی معاشرے کے سدھار میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
یقین جانئیے اگر آپ معاشرے میں سے سود کو ختم کریں گے تو بہت سے گناہ خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
سود کے ساتھ پچاس فیصد رشوت بھی ختم جائے گی اور باقی پچاس فیصد کو آپ اپنی کوشش سے خود آسانی سے ختم کرسکتے ہیں۔
اور جب سود اور رشوت معاشرے سے ختم ہو جائیں گے تو جرم ننانوے فیصد ختم ہو جائے گا آپ ایک مہذب اور جرم سے پاک اسلامی معاشرے کے قیام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
تب قائم ہوگی ریاست مدینہ طرز کی ریاست اور سود سے پاک منافع خوری پاک گناہوں سے پاک بے روزگاری سے پاک مجرموں سے پاک۔
آپکے بچوں کا مستقبل محفوظ آپکی دنیا اور آخرت محفوظ اللہ تعالٰی ہمیں سود سے پاک معاشرے کے قیام میں کامیابیاں نصیب فرمائے،
اور وطن عزیز کو ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے، اور خصوصاً خبریں ڈیلی ڈاٹ کام کی معاشرے کوسدھارنے اور سود سے پاک معاشرے کے قیام کی کوششوں کو کامیاب کرے۔
اگر میرے لکھنے میں کوئی غلطی کمی یا کوتاہی ہو تو اللہ تبارک وتعالی معاف فرمائے آمین۔
تحریر ثاقب محمود

Saqib Mehmood
Author: Saqib Mehmood

Saqib Mehmood is a writer||Columnist||Blogger ||works at khabraindaily

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں