at-least-800-booked-under-ata-over-sialkot-lynching 85

سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں سری لنکن شہری کوکیوں قتل کیا گیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

سیالکوٹ:
سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کو توہین مذہب کے الزام میں سینکڑوں افراد کے ہجوم کے حملے کے بعد تشدد کرکے ہلاک کر دیا گیا اور اس کی لاش کو آگ لگا دی گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ وزیر آباد روڈ، سیالکوٹ پر پیش آیا، جہاں پرائیویٹ فیکٹریوں کے کارکنوں نے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مار مار کر ہلاک کردیا۔

جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متوفی گزشتہ سات سال سے فیکٹری میں آپریشنل منیجر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکن شہری پر فیکٹری کے کارکنوں نے “درود شریف کو پھاڑنے” کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد فیکٹری ایریا میں افواہیں گردش کرنے لگیں اور صبح کے وقت ایک ہجوم جمع ہونا شروع ہو گیا، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو اس واقعے کے بارے میں کافی دیر بعد تقریباً 12:15 بجے مطلع کیا گیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ فیکٹری کے احاطے کے اندر پیش آیا اور اس وقت سے پہلے اس کے بارے میں جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔

پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو مقتول کو پہلے ہی تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا تھا اور اس کے جسم کو آگ لگائی جا رہی تھی۔ پولیس نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا، “پولیس نے ہجوم کو لاش کو آگ لگانے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن فسادیوں کی طاقت بہت زیادہ تھی۔”

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں