سیلاب زدہ علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان، جلدی امراض میں اضافہ 11

سیلاب زدہ علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان، جلدی امراض میں اضافہ

سیلاب زدہ علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان، جلدی امراض میں اضافہ

کراچی (92 نیوز) – سیلاب زدہ علاقوں میں طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ملیریا، گیسٹرو، ڈائریا اور جلدی امراض سمیت دیگر بیماریوں میں اضافہ ہو گیا۔

پنو عاقل میں گیسٹرو کے باعث دو بچے جاں بحق، اموات 20 ہو گئیں۔ راجن پور کی تینوں تحصیلوں کے عوام مضرصحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ سیلاب متاثرین امداد اور ادویہ کیلئے دہائیاں دینے لگے۔ دادو کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ سے پانی نہ نکالنے پر احتجاج کیا گیا۔ دلبرداشتہ شہری نے خودسوزی کی کوشش کی جس کو دیگر شرکا نے بچا لیا۔

پی ڈی ایم کے مطابق سندھ میں اب تک سات سے چوبیس افراد لقہ اجل بن چکے ہیں۔ جیکب آباد میں تحصیل گڑھی خیرمیں تین سالہ بچی نوشین بھی دم توڑ گئی۔ صرف جیکب آباد میں ڈیڑھ ماہ کے دوران خواتین اور بچوں سمیت ایک سوآٹھ افراد انتقال کر چکے ہیں۔ ضلع قمبر شہداد کوٹ میں گیسٹرو اور ملیریا سے پانچ افراد جان سے گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور بچیاں شامل ہیں۔

متاثرین کا شکوہ ہے کہ انہیں مچھردانیاں فراہم  نہیں کی جا رہیں جس کی وجہ سے روزانہ بیماریوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔



Source

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں