Shahid khan abbasi 60

حکومت کو ایسا ہی چیئرمین نیب چاہیے جس کو حکومتی کرپشن نظر نہ آتی ہو،شاہد خاقان عباسی

کراچی(این این آئی)احتساب عدالت نے پی ایس او میں غیر قانونی بھرتیوں کے ریفرنس میں آئندہ سماعت پر گواہ اور ملزموں کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

پیرکوکراچی کی احتساب عدالت میں پی ایس او میں غیر قانونی بھرتیوں کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان پیش ہوئے۔

سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہ اور ملزموں کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ ملزموں نے غیر قانونی بھرتیوں کرکے قومی خزانے کا نقصان پہنچایا تھا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کے معاملات پر کیمرہ لگائیں اور کارگردگی عوام کو دکھائیں۔ چیئرمین نیب کے مدت ملازمت میں واضح قانون کے باوجود توسیع کی جارہی ہے۔ قانون موجود ہے کہ توسیع نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے زریعے قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔ اپوزیشن کی مشاورت ضروری ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مہنگائی بیروزگاری کی شرح کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

وزیر اعظم ہر ہفتے تقریر کرتے ہیں لیکن کسی تقریر میں غربت اور مہنگائی کا ذکر نہیں ہوتا۔نیب کی ریکوری تو صفر ہے۔ براڈ شیٹ کے چکر میں 8،10ارب روپے نکل گئے۔

حکومت کے ہر محکمے میں کرپشن کے کیسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسا ہی چیئرمین نیب چاہیئے جس کو حکومتی کرپشن نظر نا آتی ہو۔ چیئرمین نیب کو آرڈیننس کے ذریعے توسیع دی گئی تو سپریم کورٹ میں جائیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ہمیں افغان عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیئے۔ افغانستان کے معاملے میں فریق بننے کے بجائے انکے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔

افغانستان کے معاملے ہر اثر انداز ہونے سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر اثر پڑسکتا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ پاکستانی عوام ووٹ کی چوری خود روکیں گے۔ عمران خان نا عوام کے ووٹ سے آیا ہے نا ان کو عوام کی پرواہ ہے۔ کوئی بھی غلط قانون بنا تو کرپشن بڑھے گی۔ ٹیکس دینا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے لیکن ٹیکس جائز ہونا چاہیئے۔ وزرائے اعظم کو ملنے والے تحائف کے لئے قانون واضح ہے۔

مروجہ ادائیگی کے بعد تحائف رکھے جاسکتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ نواز شریف کا سندھ کے لئے تحفہ تھا۔ روڈ نیٹورک بنا دیا لیکن تین سال ہوگئے بسیں نہیں آسکیں۔اخبارات کی خبر ہے کہ بسوں کے ٹھیکے کے لئے 35 کروڑ روپے مانگے جارہے ہیں۔

ایک کے بعد ایک ٹینڈرز منسوخ ہورہے ہیں معلوم کرلیں کون پیسے مانگ رہا ہے۔ کیا 40 بسوں سے کراچی کے مسائل حل ہوسکیں گے؟ انہوں نے کہا کہ موجود حکومت نے منصوبے مکمل کرنا تو دور کوئی منصوبے شروع نہیں کئے۔ نواز شریف کے منصوبوں پر تختیاں لگا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

تحریک انصاف والے خوش رہیں، پورا پاکستان جانتا ہے یہ منصوبے کس کے ہیں۔ تحریک انصاف والے کوئی ایک منصوبہ دکھا دیں جو انہوں نے شروع کیا ہو۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں