britain army chief 64

حکومت بنانے کیلئے طالبان کو ایک موقع دینا چاہیے۔برطانوی آرمی چیف

جہاں قانون ساز، صحافی اور دیگر افراد کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا ہے اور آرمی چیف کے اندازے کو غلط قرار دیا جارہا ہے۔برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے کہا ہے کہ دنیا کو صبر کے ساتھ یہ دیکھنا ہوگا کہ طالبان کی حکومت میں افغانستان کا مستقبل کیسا ہوگا۔

برطانوی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں اْنھوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں صابر رہنا پڑے گا،ہم نے طالبان سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں بہت کچھ سنا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موجودہ طالبان اْن طالبان سے مختلف ہوں جنھیں ہم 1990 کی دہائی سے جانتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ طالبان زیادہ معقول اور کم رجعت پسند ہوںاور اگر آپ دیکھیں کہ وہ فی الوقت کابل کو کیسے چلا رہے ہیں تو کچھ اشارے موجود ہیں کہ یہ زیادہ معقول ہیں۔سر نک کارٹر نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اْنھوں نے گذشتہ 20 سالوں میں ویسے ہی سیکھا ہو جیسے کہ ہم نے گذشتہ 20 سالوں میں سیکھا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے دفتر نے کہا کہ طالبان کو اْن کے الفاظ سے نہیں بلکہ اقدامات سے پرکھا جائے گا،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں