pakistan war angainstt terrorist 78

دہشتگردی کے خلاف جنگ

دفاعی طاقت کاانحصار باہمت قوم اوربہادر معاشرے کی عسکری طاقت پرہوتاہے۔عسکری طاقت میں ہر وہ طاقت شامل ہوتی ہے جو کسی بھی طرح ملکی اور قومی سلامتی کی حفاظت کے کام آئے۔پاکستان کی عسکری طاقت کا مرکزپاک فوج ہے۔

پاک فوج دنیاکی ساتویں بڑی فوج ہے،جو جذبہ حب الوطنی اور جذبہ شجاعت وبہادری میں دنیا کی تمام فوجوں سے بالادست ہے۔قیام ِ پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج نے ہرمشکل گھڑی میں نہ صرف ملکی سلامتی،بلکہ عالمی امن وسلامتی کے لیے اپنی طاقت سے بڑھ کر کردار اداکیاہے۔
سرحدوں کی حفاظت ہو یا پھر دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کاروائیاں ،قدرتی آفات ہوں یا پھر پاکستان دشمن عناصرکی مذموم سرگرمیاں ،عالمی امن کو درپیش خطرات ہوں یا پھر حریف ممالک کے درمیان باہمی جنگیں اور چپقلشیں ہر جگہ پاک فوج نے حکمت وفراست اور شجاعت ومردانگی کے ساتھ اپنافرضِ منصبی نبھایا ہے۔

پاک فوج کی یہی وہ گراں قدر خدمات ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پاک فوج کو سراہا جاتاہے اورپاکستان سمیت دیگر اسلامی دنیا بھی پاک فوج کو اپنے لیے سرمایہ افتخار سمجھتی ہے۔
2000سے 2017 تک تقریباً دو دہائیوں پر محیط ایک عجیب دور تھا جس میں دوست اور دشمن کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ تحریک طالبان کے ہیڈ کوارٹر قبائلی علاقوں میں تھے جبکہ ان کے سہولت کار پاکستان کے طول و عرض میں چھپے ہوئے تھے جن کے مذموم مقاصد فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروںپرحملوں کے ساتھ ساتھ صرف دہشت گردی تھی چنانچہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں کو بلاتفریق نشانہ بنایاگیا۔ مساجد، چرچ، مندر، مزار، ہسپتال اور درسگاہیں ان کے نشانے پر تھیں۔
معصوم انسانوں کو جاسوسی اور بغاوت کا الزام لگا کر سر بازار ذبح کیا گیا۔

چوکوں میں لاشیں لٹکا دی گئی۔ ان حالات میں افواج پاکستان کے پاس ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا چنانچہ 2002 میں آپریشن المیزان شروع کیا گیا جس کا مقصد جنوبی وزیرستان میں دہشت گرد وں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی بیخ کنی کرنا تھا۔

وہاں کی مقامی آبادی بھی ان دہشت گردوں کے ظلم وستم سے عاجز تھی جو اسلام کا نام لے کر بے گناہوں کے گلے کاٹ رہے تھے چنانچہ مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر افواج پاکستان کی مدد کی۔بعد کے سالوں میں آپریشن شیردل، آپریشن راہ حق، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات بھی شروع کئے گئے۔
ان تمام آپریشن کا ٹارگٹ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردوں کے حوصلے بہت بلند تھے۔ زن ، زر کی چمک سے ان کے پاس مدرسوں کے سادہ لوح طلباء تھے جن کو جنت کی راہ دکھا کر فوج، پولیس، اور ہر طرح کی سول آبادی کو نشانہ بنانے کی تربیت دی جاتی تھی ۔

لیکن افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت پر دشمن بھی انگشت بدنداں رہ گیا کیونکہ ایک طرف نیٹو اور ISAF کے بینر تلے40 ممالک کی فوج تھی جو ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے لیس تھیں مگر طالبان کے سامنے بے بس تھیں جبکہ ادھر اکیلے پاکستان اپنے زورِ بازو اور اللہ کی نصرت سے گوریلا وار کے ماہر اور سخت جان دہشت گردوں کی کمر توڑ رہا تھا۔ کامیابیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا، ایک ایک قلعہ اور کمین گاہ فتح ہوتی رہی، دشمن پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کی ان کامیابیوں پر تلملار ہا تھا۔

یہ کامیابیاں جھولی میں نہیں آگریں۔ خون کا نذرانہ دینے والے تمام شہداء کے نام اگر لکھے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے۔ ان شہداء میں افواج پاکستان کے سینیئر سے جونیئر رینک تک کے آفیسرز اور جوان شامل ہیں۔

دُشمن کا ہتھیار خود کُش حملے اور بارودی سُرنگوں کا استعمال تھا جس کے نتیجے میں شُہداء کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد اپنے اعضاء سے محروم ہو کر غازی ہونے والوں کی بھی تھی لیکن افواجِ پاکستان کے سپوتوں کا حوصلہ اور عزم متزلزل نہ ہوا اور وہ اپنے عظیم مقاصد کی کامیابی کے لئے مسلسل آگے بڑھتے رہے۔
اور آخر کار جنوبی وزیرستان اِن درندوں کے چنُگل سے آزاد کرا کے پُر امن بنا دیا گیا۔ سوات کی خوبصورت وادی مالا کنڈ ڈویژن میں واقع ہے یہاں کے لوگ پشتون،خوشحال اور پُرامن ہیں چُنانچہ بھارت اور اُس کے معاونین نے اِس پُر امن وادی کو نشانہ بنانے کا سوچ لیا۔

مقامی آبادی کو اِسلام کے نام پر گمراہ کیا گیا لیکن مقامی آبادی کو بھی ادراک ہو گیا کہ تحریک نفاذ شریعت محمدیۖ کے نام پر اِن کو بیوقوف بنایا گیا ہے اور دہشتگردوں کا مطمع نظر صِرف پُر تشدد کارروائیاں، طاقت کا حصول اور وسائل پر قبضہ ہے۔ لیکن افواجِ پاکستان نے آپریشن راہ حق اور راہ راست کے ذریعے آہستہ آہستہ صفایاشروع کر دیا۔
2007سے 2009تک خون ریز جھڑپوں میں افوا ج ِپاکستان کے سپوتوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور سول اداروں کے ہزاروں ملازمین نے اپنی جانیں قربان کیں جن میں صحافی حضرات بھی پیش پیش تھے علاقے کو مکمل طور پر صاف کرنے کے لئے فوج نے بہترین حکمتِ عملی اختیار کی جو شاید ہی دنیا میں کہیں بھی اپلائی کی گئی ہو۔ گنجان آباد علاقے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں تھیں۔

جس کی وجہ سے وہاں آپریشن کرنا فوج کے لئے انتہائی دُشوار تھا چنانچہ کمال مہارت سے 3ملین کی آبادی کے لئے نیا شہر بسا کر مینگورہ اور دوسرے علاقوں کے لوگوں کو وہاں منتقل کیا گیا۔ آبادی کی اس نقل مکانی سے مقامی لوگوں کو دشواری اور تنگی تو محسوس ہوئی، مگر ملک بھر سے مخیر حضرات نے اپنے بے گھر ہونے والے بھائیوں کے لئے دل اور وسائل کے دروازے کھول دئیے۔ چنانچہ چند ماہ میں ہی ایک بھرپور آپریشن سے تمام دہشت گردوں کو مار دیا گیا۔

جنہوں نے ہتھیار پھینک دئیے ان کو ری ہیبلیٹیشن سینٹرز میں شفٹ کر دیا گیا تاکہ ان کو دوبارہ معاشرے کا صحت مند اور کارآمدفرد بنایا جا سکے۔ بہت سے دہشت گرد بھاگ کر سرحد کے اُس پار افغانستان چلے گئے۔

جہاں ان کے آقاؤں نے اُن کو دوبارہ کسی مشن میں استعمال کرنا تھا۔سوات اور جنوبی وزیرستان میں امن کی بحالی کے بعد اب شمالی وزیرستان میں آپریشن کی ضرورت تھی۔ ان علاقوں سے بھاگ کر دہشتگردوں کی ایک بہت بڑی تعداد شمالی وزیرستان میں پناہ گزین تھی۔

ملک بھر کے تمام آپریشن اور کارروائیاں یہیں سے کنٹرول ہو رہی تھیں۔چنانچہ دہشت گردوں کے اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے ضربِ عضب کا آغاز کر دیا گیا۔ راقم اس آپریشن میں بطور آئی ایس پی آر آفیسر بنفسِ نفیس شریک رہا۔ سوات کے تجربے کے بعد دہشت گردوں نے یہاں مقابلہ کرنے کے بجائے راہِ فرار اختیار کی اور اپنے ٹھکانے جو اسلحہ و بارود اور بارودی سرنگوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تھے، چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

میران شاہ جو کہ شمالی وزیرستان کا ہیڈ کواٹر ہے، سے15 جون 2014 کو ضربِ عضب آپریشن کا آغاز ہوا۔ سوات آپریشن والی اسٹریٹجی اپنی بھرپور کامیابی کے باعث یہاں بھی دہرائی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقامی لوگوں کے لئے بنوں کے گرد و نواح میں خیموں کا ایک وسیع شہر آباد کر دیا گیا۔

مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس آپریشن میں فوج کے ساتھ تعاون کیا اور اس تعاون کی بدولت میران شاہ، دتہ خیل اور میر علی کے علاقے مکمل طور پر کلئیر کرا لئے گئے۔بعدازاں فروری 2017 میں آپریشن رد الفساد شروع کیاگیا جس کے تحت ملک کے طول و عرض میں جہاں کہیں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار موجود تھے اُن کی نشاندھی کرکے اُنہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا گیا۔

کامیابیوں کا یہ سفر قربانیوں کے بغیر نا ممکن تھا۔ اگر دیکھا جائے تو تمام آپریشن کے دوران فوج کے 8 ہزار کے قریب جوانوں اور ہر رینک کے افسروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ پولیس اور سول اداروں کے لوگوں اور عامآبادی کی شہادتوں کی تعداد60 ہزار کے قریب ہے۔

الحمد للہ اُس وقت ان تمام علاقوں کے انچ انچ پر امن اور حکومت کی رٹ بحال کر دی گئی ہے۔ البتہ دہشت گردوں کی چھوٹی موٹی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ اس کے علاوہ افواجِ پاکستان نے امن کی بحالی کے بعدخوشحالی اور ترقی کے مرحلے کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں