Hamid Mir interview bbc 74

پاکستان میں خوف کی فضا ہے ۔نوجوان صحافی مایوس ہیں

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک کو انٹرویو دیتے ہوۓ کہا کہ ‏پاکستان کی فوج کے چند افسران پر تنقید کے بعد آف ایئر کیے جانے والےصحافیوں میں خوف کی فضا ہے اور صحافت مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔انھوں نے کہا اگر ہم آزادی صحافت کی صورت حال پر غور کریں۔جب عمران خان 2018میں پاکستان کے وزیراعظم بنے تھے۔پاکستان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس پر 139ویں نمبر پر تھا۔آج جب میں 2021 میں آپ کو انٹر ویو دے رہا ہوں تو پاکستان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 145 ویں نمبر پر ہے۔تو اس طرح پاکستان گزشتہ 3 سالوں میں 6 پوائنٹس نیچے گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کی انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنالسٹس کے مطابق پاکستان کا شمار صحافت کے لیےدنیاکے پانچ خطرناک ترین ممالک میں ہوتاہے۔اس طرح یہ پاکستان،پاکستان کی ساکھ اور عالمی برادری میں ساکھ کے لیے اچھا نہیں ہے۔پاکستان میں خوف کی فضا ہے کیونکہ پاکستانی صحافی سمجھتے ہیں کہ صحافت کرنا اس ملک میں بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔عمران خان کی حکومت کچھ میڈیا مخالف قوانین متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔جو ہمارے لیے ناقابل قبول ہے

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں