documentary of lahore 76

عنوان ! لاہور، لاہور اے

لاہور کی تاریخ پہلی اور ساتویں صدی عیسوی کے درمیان پائی جاتی ہے۔ تاہم مورخین نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ لاہور اصل میں رام کے بیٹے لوہا نے قائم کیا تھا ، جسے رامائن میں ہندو دیوتا کے طور پر منسوب کیا گیا تھا۔

یونانی جغرافیہ نگار ٹیلمی کے مطابق ، لاہور کی بنیاد پہلی صدی کے آخر میں رکھی گئی تھی۔ کتاب اود الاماہور کے مطابق 882 ء میں بستی کے طور پر بنے ہوئےلاہور کے قریب شہر امرتسر، صرف 31 میل دور واقع ہے جو سکھوں کی مقدس ترین جگہ ہے۔ اسکے شمال اور مغرب میں ضلع شیخوپورہ، مشرق میں واہگہ اور جنوب میں ضلع قصور واقع ہیں۔

 دریائے راوی لاہور کے شمال مغرب میں بہتا ہے۔ لاہور میں پورے ملک کی نسبت سب سے زیادہ تعلیمی ادارے اور برصغیر کے بہترین باغات ہیں۔مغل حکمران خاص کر اکبر اعظم کے دور میں جس نے لاہور کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔ اکبراعظم کا بیٹا جہانگیر بھی اس کے مضافات میں دفن ہے اور اس کا مقبرہ ایک ایسی جگہ ہے۔

جہاں سیاح اور لاہوری بڑی تعداد میں وہاں پرموجود ہوتے ہیں قریب ہی مشہور مغل مہارانی نور جہاں کا مقبرہ ہےاندرون لاہور کو پرانا لاہور بھی کہاجاتاہے برصغیر میں مغلیہ دور حکومت کے دوران دشمن کے حملوں سے بچاؤ اور شہر لاہور کی حفاظت کے لیے اس کے اردگرد دیوار تعمیر کر دی گئی تھی۔

اس دیوار میں13 دروازے بنائے گئےپرانے لاہور میں خلیفہ بیکری کے نان کھتائی بسکٹ سری پائے نہاری نان چنے،حلوہ پوری اور بھی زبردست ڈشوں سے لے کر لاہور آپ کی تمام تر کھانےکی لوازمات اور ذائقوں کو پورا کرتا ہے۔
لاہور میں شالامار گارڈن بنانے والے جہانگیر اور شاہ جہاں نے محلات اور مقبرے بنائے تھے۔ آخری مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے لاہور کی سب سے مشہور یادگار عظیم بادشاہی مسجد تعمیر کی جودریائے راوی کے نزدیک ہے اور لاہور سے کچھ فاصلے پر واقع ہے جو قلعے اور مسجد کے قریب ہے ایک ندی اب بھی وہاں موجود ہے ۔

اسے “پرانا دریا” کے نام سے جانا جاتا ہےجی پی او اور وائی ایم سی اے کی عمارتیں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر تعمیر کی گئیں انہوں نے کچھ اور اہم عمارتیں بھی تعمیر کیں جیسے ہائی کورٹ گورنمنٹ کالج ،میوزیم ،نیشنل کالج آف آرٹس ، مونٹگمری ہال ، ٹلنٹن مارکیٹ ، پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) اور صوبائی اسمبلی۔

شیش محل1631 میں تعمیر کیا گیا یہ لال قلعہ لاہور کے اندر انتہائی خوبصورت عمارت ہےلیکن لاہور محض یادگاروں سے کہیں زیادہ طرح طرح کی آرٹ گیلریوں، عجائب گھروں ، تھیٹروں اور شاپنگ مارکیٹیں اسی ثقافت اور سرگرمیوں کا ایک مرکز ہے ۔

جو لاہور شہر کو اور بھی پر کشش بنا دیتی ہیں جیسے ٹھنڈے درختوں سے نکلتے ہوئے راستے سرسبز و شاداب لان پُرسکون چلتی ہوئی نہر فراٹے لیتے فوارے، چشمے جدید طرز تعمیر کی اونچی اور خوبصورت عمارتیں جو شہر کے حسن اور دلکشی میں مزید اضافہ کردیتی ہیں لاہور کو پاکستان کا ثقافتی مرکز بھی کہا جاتا ہے۔

کیونکہ اس میں ملک کے بیشتر فنون ، کھانوں ،میلوں ، موسیقی ، فلم سازی ، باغبانی شاعروں ، فنکاروں اور فلم انڈسٹری کا مرکز ہے۔ اور یہاں دانشوروں شاعروں وغیرہ کی میزبانی کی جاتی ہے۔

اہل لاہور جب اپنے شہر کی خصوصیات پر زور دیتے ہیں تو کہتے ہیں “لاہور لاہور اہے” پاکستان میں لاہور کواہم مقام حاصل ہےبڑے بڑے تعلیمی اداروں کیوجہ سےپورےپاکستان سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے یہاں آتے ہیں حال ہی میں لاہور کے پرانے والڈ سٹی میں واقع گلی سرجن سنگھ کی تصاویر سے مشہور ہو ئی ہے۔

لوگ اس گلی کی تصاویر دیکھ کر حیران ہو جاتےجو رنگین اور بے حد پر کشش ہے، پھولوں اور لالٹینوں نے نہ صرف اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہےگلی کو صاف اور اپ گریڈ کرنے کے لئے والڈ سٹی لاھور اتھارٹی (ڈبلیو سی ایل اے) کی یہ نئی کوشش حالیہ برسوں میں وہاں رونما ہونے والی ایک بڑی برادری بھی شامل ہے جو اس ورثہ کا ایک حصہ رہی ہے۔

لاہور کے باسی بہت زندہ دل اور کھابوں کے بہت شوقین ہونے کے ساتھ بہت ہی دلیر ہیں اچھے اور فلاحی کاموں میں لاہوری بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں سر سید احمد خان جب علی گڑھ یونیورسٹی بنانے کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کیلئے لاہور آئے۔

تو لاہوریوں نے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس پر سر سید احمد خان نے لاہوریوں کو زندہ دلان لاہور کہا جو تاریخ میں امر ہوگیا۔آج بھی لاہوری اپنے آپ کو زندہ دلان کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں لاہور دنیا کے 52 پرکشش شہروں میں شامل: ‘مہمان نوازی اس شہر کا خاصا ہےیہاں کے لوگ انتہائی ملنسار ہیں۔

اصل لاہوری جب بھی دیکھتے ہیں کہ کوئی باہر سے آیا ہے تو وہ گزرتے گزرتے بھی ان سے کھانے کا پوچھ لیں گے۔ کسی چیز کے پیسے نہیں لیں گے۔ لاہور کی ایک روایت ہے کہ یہ بہت مہمان نواز شہر ہے
اسی لئےکہا جاتا ہے
“جنے لاہور نئیں تکیا او جمیا ہی نئیں۔”

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں