usa 65

امریکا کا افغانستان کے 10 ارب ڈالرز کے اثاثے فوری بحال کرنے سے صاف انکار

واشنگٹن: امریکی حکومت نے افغانستان کے منجمد اثاثے فوری طور پر بحال نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ افغانستان کے قومی بینک کے 10 ارب ڈالرز مالیت کے اثاثے منجمد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جوبائیڈن انتظامیہ انہیں فوری طور پر بحال کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی کیونکہ نائن الیون کیس ابھی زیر سماعت ہے جس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

جین ساکی کی بات سے یہ اشارہ ملا کہ نائن الیون کے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے دائر کیس کے فیصلے کے بعد ہی امریکی حکومت افغانستان کے اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک صحافی کے سوال پر جواب دیا کہ افغان بینک کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے وقت کا تعین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس میں ایک سال یا اُس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں ہی جوبائیڈن انتظامیہ کوئی فیصلے کر سکے گی کیونکہ ہم نائن الیون کے متاثرہ خاندانوں کو بھی جواب دہ ہیں۔

وسیم عباس
Author: وسیم عباس

وسیم عباس فری لانسر , جرنلسٹ , وی لاگر , کالم نگار , سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ,خبریں ڈیلی کے ساتھ بطور ایڈمن منسلک ہیں انکا ٹویٹر اکاونٹ[email protected] کے ہینڈل سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں